ساؤپالو11؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)برازیل کے صدر مائیکل ٹیمر پر سابق سیاسی حلیف سے ایک بڑی رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔برازیل کی سابق صدرجیلماروسیف کے وکلا کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے جانے والے دستاویزات میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ وہ ان الزامات کو ثابت کر سکتے ہیں۔مائیکل ٹیمر کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کے خدشات سامنے آنے کے بعد برازیل کی کرنسی5.7فیصد تک گرگئی۔برازیل کے صدر کے خلاف رشوت لینے کے الزامات ایک تعمیراتی کمپنی کے سابق سی ای اواوٹاویو ازیویڈو نے عائدکیے ہیں۔جیلما روسیف کے وکلا کی جانب سے جمع کروائے جانے والے عدالتی دستاویزات کے مطابق اوٹاویو ازیویڈو نے یہ رقم برازیلین ڈیموکریٹک موومنٹ پارٹی کے فنڈ میں براہ راست منتقل کی تھی۔اوٹاویوازیویڈونے پلی بارگین کے تحت گواہی دی تھی کہ جیلما روسیف کو رشوت دی گئی تھی۔عدالتی دستاویزات کے مطابق منتقل کی جانے والی رقم کا چیک مبینہ طور پر مائیکل ٹیمر کی ذاتی مہم فنڈ کو دیا گیا۔جیلما روسیف کے وکلا ء کاکہناہے کہ اوٹاویو ازیویڈو نے جھوٹ بولاتھااور رشوت کی رقم مائیکل ٹیمر کو دی گئی لہٰذا ان کا مواخذاہ کیا جانا چاہیے۔ادھرمائیکل ٹیمرکاموقف ہے کہ جیلما روسیف سربراہ تھیں اور وہ ہی خرابی کی ذمہ دار ہیں۔برازیل کے صدر کی جماعت کاکہناہے کہ جماعت کوملنے والا چندہ قانونی ہے اوراسے الیکٹورل کورٹ کے سامنے ظاہر کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ برازیل کی سابق صدرجیلماروسیف کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے بعد انھیں ان کے عہدے سے برطرف کرنے کے بعد نائب صدرمائیکل ٹیمر صدر بن گئے تھے۔