بنگلورو، 23/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاست بھر میں رہائشی عمارتوں کے لیے مستقل برقی کنکشن حاصل کرنے میں پیش آنے والی ایک بڑی رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے حکومتِ کرناٹک نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ عوامی مفاد کے پیشِ نظر محدود رقبہ کی رہائشی عمارتوں کو مستقل برقی کنکشن حاصل کرنے کے لیے قبضہ سند (او سی) پیش کرنے سے ایک بار کے لیے استثنا دینے کا تاریخی حکم جاری کیا گیا ہے۔
یہ عوام دوست فیصلہ وزیرِ اعلیٰ کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں منظور کیے گئے فیصلے کی روشنی میں محکمۂ توانائی کی جانب سے نافذ کیا گیا ہے۔ سرکاری حکم کے مطابق یہ سہولت ریاست بھر میں نافذ ہوگی، جس میں گریٹر بنگلورو اتھارٹی کا دائرہ، بلدیاتی کارپوریشنیں، شہری بلدیاتی ادارے اور گرام پنچایتیں شامل ہیں۔
حکم نامہ کے مطابق صرف ان رہائشی عمارتوں کو یہ استثنا حاصل ہوگا جو دو ہزار چار سو مربع فٹ تک کے پلاٹ پر تعمیر کی گئی ہوں، جس میں بیس فیصد تک اضافی گنجائش کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ زمینی منزل سمیت تین منزلہ رہائشی عمارتیں یا پارکنگ منزل کے ساتھ چار منزلہ رہائشی عمارتیں اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔
محکمۂ توانائی نے واضح کیا ہے کہ یہ رعایت ان درخواست گزاروں کے لیے دستیاب ہوگی جنہوں نے اکتیس مئی دو ہزار چھبیس تک مستقل برقی کنکشن کے لیے درخواست دی ہو۔ اسی طرح وہ مکانات بھی اس کے دائرے میں آئیں گے جہاں عارضی برقی کنکشن کے ذریعے تعمیر مکمل کی جا چکی ہے یا جہاں ابھی تک کوئی برقی کنکشن حاصل نہیں کیا گیا لیکن تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔
حکومت نے عوام کو ایک اور موقع فراہم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس حکم نامہ کے اجرا یعنی بائیس جون دو ہزار چھبیس سے آئندہ پندرہ دنوں تک مستقل برقی کنکشن کے لیے نئی درخواستیں بھی قبول کی جائیں گی۔
دریں اثنا، دیہی علاقوں کے کسانوں کو خصوصی راحت دیتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسانوں کے رہائشی مکانات، باغات میں قائم مکانات، زرعی آلات رکھنے کی عمارتوں، مویشی خانوں اور ریشم کے کیڑوں کی پرورش کے لیے استعمال ہونے والی عمارتوں کو مستقل برقی کنکشن حاصل کرنے کے لیے قبضہ سند پیش کرنے سے مکمل استثنا حاصل ہوگا۔
محکمۂ توانائی نے بتایا کہ اس حکم پر عمل درآمد کے لیے ریاست کی تمام برقی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے تفصیلی رہنما اصول جلد ہی الگ سے جاری کیے جائیں گے تاکہ عوام کو زیادہ آسانی اور شفافیت کے ساتھ مستقل برقی کنکشن فراہم کیا جا سکے۔