ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ؛ دو مسلم نوجوانوں کی ضمانت منظور؛ ممبئی ہائی کورٹ نے دی راحت ، جمعیۃ علماء نے فراہم کی قانونی امداد

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ؛ دو مسلم نوجوانوں کی ضمانت منظور؛ ممبئی ہائی کورٹ نے دی راحت ، جمعیۃ علماء نے فراہم کی قانونی امداد

Fri, 07 Oct 2016 18:07:30    S.O. News Service

ممبئی7/اکتوبر(ایس او نیوز/پریس ریلیز) مہاراشٹرا میں ہوئے ایک دہشت گردانہ واقعہ بنام اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں نچلی عدالت سے مجرم گردانے گئے مالیگاؤں کے دو مسلم نوجوانوں کو آج اس وقت راحت حاصل ہوئی جب ممبئی ہائی کورٹ نے انہیں مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔

واضح رہے کہ اسی سال ۲؍ فروی کو ملزمین مشتاق احمد محمد اسحاق اور جاوید احمد عبدالمجید انصاری کو خصوصی مکوکا عدالت نے آٹھ سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی جس کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) نے ملزمین کی سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کیئے جانے کی اپیل ممبئی ہائی کورٹ سے کی تھی ۔

ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس پی این دیشمکھ کے روبرو آج عرضداشت پر بحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ خصوصی مکوکا عدالت نے عرض گذاروں کو جو سزاء تجویز کی ہے وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ اس معاملے سے ملزمین کا کوئی لینا دینا نہیں لیکن اس کے باجود صرف شک کی بنیاد پر خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین کو آٹھ سال کی سزا سنائی ہے ۔

ایڈوکیٹ شریف شیخ نے کہا کہ ملزمین آٹھ سال میں سے سات سال اور دس ماہ جیل میں گذارچکے ہیں اور قانون کے مطابق نصف سے زائد سزاء جیل میں گذارنے والے قیدی کو اس کی اپیل کی سماعت کے اختتام تک ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے لہذا ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا جائے ۔
دفاعی وکیل کے دلائل کے بعد سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت عرض گذاروں کی سزاؤں میں اضافہ کی اپیل جلد ہی داخل کرنے والی ہے لہذا انہیں اس کی سماعت مکمل ہونے تک ضمانت پر رہا نہیں کیا جانا چاہئے ۔

فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس دیشمکھ نے عرض گذاروں مشتاق احمد اور جاوید احمد کو اس شرط پر ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے کہ وہ ماہ میں ایک مرتبہ مالیگاؤں کے مقامی پولس اسٹیشن میں حاضری دیں گے اور ہر تین ماہ بعد ممبئی اے ٹی ایس آفس میں ان کی حاضری لازمی ہوگی۔

ممبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں امید تھی کہ اپیل کی سماعت ہوتے ہی مشتاق اور جاوید کو ضمانت مل جائیگی نیز دونوں کو تلوجہ جیل سے جلد از جلد رہا کرائے جانے کے تعلق سے کاغذی کارروائی شروع کردی گئی ہے اور ہائی کورٹ کے حکم نامہ کی اصل نقول ملتے ہی ان کی رہائی کے لیئے خصوصی مکوکا عدالت کے رجسٹرار سے رجوع کیا جائے گا ۔

گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ اس معاملے میں ۱۴؍ سال کی سزائے پائے ملزمین مظفر تنویر اور ڈاکٹر محمد شریف کی عرضداشتیں زیر سماعت ہیں اور جلد ہی ان پر سنوائی ممکن ہے نیز انہیں امید ہیکہ جاوید اور مشتاق کی ہی طرح ڈاکٹر شریف اور مظفر تنویر کو بھی ضمانت ملے گی اور اس کے بعد بقیہ ملزمین کی اپیل دائر کی جائیں گی اور اس تعلق سے وکلاء کی ایک ٹیم کام کررہی ہے جس میں ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے، ایڈوکیٹ چراغ شاہ، ایڈوکیٹ ساجد قریشی و دیگر شامل ہیں جن کی سربراہی سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر یوگ موہیت چودھری کررہے ہیں۔
 


Share: