واشنگٹن،۹/جون (آئی این ایس انڈیا)امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان پارلیمان نے پولیس زیادتیوں اور نسلی نا انصافیوں کے خاتمے کے لیے محکمہ پولیس میں جامع اصلاحات کے لیے ایک نیا قانون بنانے کا اعلان کیا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئیڈ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اپنے گھٹنوں کے بل اسی انداز میں جھکے، جس طرح پولیس کی تحویل میں ان کی موت ہو گئی تھی۔
ارکان نے پولیس کی زیادتیوں اور نسلی نا انصافیوں سے نجات کے لیے جس مجوزہ قانون کا مسودہ تیا رکیا ہے اس میں پولیس کوگردن پر سخت دباو ڈالنے اور قانونی طور پر طاقت کے استعمال سے باز رہنے کی بات کہی گئی ہے۔ پولیس کی زیادتیوں کے شکار افراد کو متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دینے اور امریکی پولیس میں نسلی نا انصافیوں کے ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس میں سیاہ فاموں سے متعلق کمیٹی کی سربراہ کارین باس کا کہنا تھا، ''ایسا پیشہ جس میں آپ کو لوگوں کے قتل کرنے تک کا اختیار ہو، اس میں ایسے تربیت یافتہ افسران کی ضرورت ہے جو عوام کو جوابدہ ہوں۔''
انہوں نے کہا کہ پولیس ایکٹ 2020 سے غلط پولیس آفیسرز کو جوابدہ بنایا جائے گا، کام کرنے کے طور طریقوں میں تبدیلیوں کے ساتھ ہی محکمہ پولیس اور کمیونیٹیز کے درمیان اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس بل میں ہجومی تشدد کے خلاف بھی وفاقی قانون بنانے کی بات کہی گئی ہے جو کافی دنوں سے کانگریس میں التوا کا شکار ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ریپبلکنز اس بل کی حمایت کریں گے یا نہیں۔ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ریپبلکنز کی اکثریت ہے اور دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد یہ قانون تبھی بن سکتا ہے جب صدر ٹرمپ بھی اس پر دستخط کردیں لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے متفق نہیں ہیں۔ اس بل کے سامنے آتے ہی مسٹر ٹرمپ نے اس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس برس تاریخ میں پہلی بار امریکا میں سب سے کم جرائم ہوئے ہیں، اور اب ریڈیکل لیفٹ ڈیموکریٹس، ''ہماری پولیس کے فنڈز روک کر انہیں بے یارومددگار چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔ معاف کیجئے مجھے امن و قانون چاہیے۔