ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سپریم کورٹ کا بار کونسل آف انڈیا کو قانونی تعلیم میں دخل اندازی پر سخت تنقید

سپریم کورٹ کا بار کونسل آف انڈیا کو قانونی تعلیم میں دخل اندازی پر سخت تنقید

Sat, 22 Mar 2025 10:20:50    S O News

نئی دہلی، 22/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی کو قانونی تعلیم کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے کیونکہ یہ کام قانونی ماہرین اور تعلیم کے ماہرین کا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ کا یہ ریمارک اس وقت آیا جب بی سی آئی نے کیرالہ ہائی کورٹ کے 23 نومبر 2023 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں ہائی کورٹ نے دو قتل کے مجرموں کو ورچوئل طریقے سے ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔

سماعت کے دوران جسٹس سوریہ کانت نے کہا، "بار کونسل آف انڈیا کا قانونی تعلیم سے کوئی واسطہ نہیں ہے اس معاملے کو ماہرین قانون اور ماہرین تعلیم کے لیے چھوڑ دیں۔ براہ کرم اس ملک کی قانونی تعلیم پر کچھ رحم کریں۔"

وہیں بی سی آئی کے وکیل نے دلیل دی کہ سوال صرف قصورواروں کو ورچوئل کلاسز لینے کی اجازت دینے کی نہیں ہے بلکہ یہ یو جی سی کے ضابطوں کے خلاف ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے پوچھا کہ اگر قصورواروں کو اوپری عدالتیں بری کر دیتی ہیں تو پھر کیا ہوگا؟ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی کو اس طرح کے 'پروگریسیو آرڈر' کی مخالفت کرنے کے بجائے حمایت کرنی چاہیے تھی۔

بی سی آئی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ صرف اس معاملے میں قانون سے جڑے وسیع سوالات پر غور کرنے کی گزارش کر رہا ہے۔ حالانکہ عدالت عظمیٰ نے بی سی آئی کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے کیرالہ ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا، جس سے دونوں قصورواروں کو آن لائن موڈ میں ایل ایل بی کی پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔


Share: