ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی احتجاج کے معاملے پر سپریم کورٹ کی اہم سماعتیں: الیکشن کمیشن، دہلی پولیس اور اپوزیشن رہنماؤں کو نوٹس

دہلی احتجاج کے معاملے پر سپریم کورٹ کی اہم سماعتیں: الیکشن کمیشن، دہلی پولیس اور اپوزیشن رہنماؤں کو نوٹس

Thu, 15 Oct 2026 17:29:58    S O News

نئی دہلی، 15/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج سے متعلق 15 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں کئی اہم معاملات پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی کی بنچ نے ایک طرف احتجاج کے لیے جنتر منتر کو مقررہ مقام کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر نوٹس جاری کیا، تو دوسری طرف راہل گاندھی اور اپوزیشن اتحاد کی جانب سے ووٹر لسٹوں میں مبینہ بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے کے معاملے میں الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا۔

عدالت میں 10 اکتوبر کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، مظاہرین کی حراست، میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیوں، سڑکوں کی بندش اور سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات پر عمل درآمد سے متعلق معاملات بھی زیرِ غور آئے۔

ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر راہل گاندھی کی عرضی، الیکشن کمیشن کو نوٹس: سپریم کورٹ کی سماعت کا ایک اہم حصہ راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں کی اس عرضی سے متعلق تھا، جس میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے اس عرضی پر الیکشن کمیشن آف انڈیا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے کو پہلے سے زیرِ سماعت متعلقہ مقدمات کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔

عرضی میں مبینہ طور پر حذف کیے گئے ووٹروں کے ناموں اور ایس آئی آر کے عمل کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج کی سربراہی میں ماہرین پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے ووٹر لسٹوں میں کی گئی تبدیلیوں کا آڈٹ کرانے کی درخواست بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں سے متعلق فائلیں، کارروائی کے ریکارڈ، اعتراضات اور ڈیجیٹل رسائی کے لاگز عدالت کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عرضی میں ووٹروں کے نام حذف کرنے سے قبل نوٹس اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینے، بوتھ کی سطح پر حذف کیے گئے ناموں کی فہرست اور اس کی وجوہات ظاہر کرنے جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔ تاہم، عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان الزامات کو درست تسلیم کرلیا گیا ہے۔

راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کو بھی نوٹس، عدالت کا سخت تبصرہ: اسی سماعت کے دوران عدالت نے 12 اکتوبر کو اپوزیشن رہنماؤں کے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کے معاملے پر دائر ایک علیحدہ عرضی پر راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور دیگر متعلقہ رہنماؤں کو بھی نوٹس جاری کیے۔ اس عرضی میں عدالت کی جانب مارچ اور اس کے طریقۂ کار پر اعتراض کیا گیا تھا۔

بنچ نے اس معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عدلیہ پر دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ عدالت نے راہل گاندھی کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ متعلقہ عرضی گزار کو اپنے طرزِ عمل کی وضاحت کرنی ہوگی۔

یہ کارروائی ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن کی اصل عرضی سے الگ تھی۔ اس لیے دونوں معاملات کو ایک ہی نوٹس یا ایک ہی قانونی کارروائی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے پر مرکزی حکومت اور دہلی پولیس سے جواب طلب: دہلی پولیس کی جانب سے 11 اکتوبر کو جاری حکم کے تحت جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کیے جانے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ متعلقہ کارروائی میں دہلی پولیس کے کمشنر سے بھی جواب طلب کیا گیا۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ جنتر منتر جیسے مرکزی مقام کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے اور مظاہرین کو شہر سے دور متبادل مقامات پر بھیجنے سے شہریوں کے پُرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی کے بنیادی حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔

سماعت کے دوران سینئر وکیلوں نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کا مقام ایسا ہونا چاہیے جہاں مظاہرین کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچ سکے۔ بنچ نے زبانی طور پر کہا کہ عدالت یہ جائزہ لے گی کہ جنتر منتر کو فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ کرتے وقت متعلقہ حکام نے مقام کی افادیت اور اس کی ضرورت پر آزادانہ غور کیا تھا یا نہیں۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے حکومت کی طرف سے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے سابقہ مشاہدات کی بنیاد پر نہیں کیا گیا، بلکہ اس سلسلے میں تشکیل دی گئی کمیٹی نے رپورٹ پیش کی تھی اور وجوہات درج کی گئی تھیں۔ عدالت نے حکومت سے اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا۔

احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، حراست اور میٹرو پابندیوں پر بھی سماعت: 10 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی اور عوامی آمدورفت پر پابندیوں سے متعلق توہینِ عدالت کی کارروائی بھی سماعت میں شامل تھی۔

اس معاملے میں عدالت نے پہلے جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد، مظاہرین کی مبینہ غیر قانونی حراست، سڑکوں کی بندش، انٹرنیٹ خدمات کی معطلی اور دہلی میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستوں پر پابندیوں کے بارے میں متعلقہ حکام کے جوابات کا جائزہ لیا۔

دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار نے عدالت میں حلف نامے داخل کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگی اور کہا کہ عدالت کے احکامات کی جان بوجھ کر خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ پولیس کے مطابق 303 میٹرو اسٹیشنوں میں سے 45 اسٹیشنوں پر داخلے اور اخراج پر پابندی رہی، جبکہ 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک پابندیاں ہٹا دی گئی تھیں۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ احتجاجی مقام سے ہٹائے گئے افراد کو دو سے چھ گھنٹوں کے اندر رہا کردیا گیا تھا۔

دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے بھی غیر مشروط معافی مانگی، تاہم یہ مؤقف اختیار کیا کہ پورا میٹرو نیٹ ورک بند نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق 258 اسٹیشنوں پر خدمات جاری تھیں اور 45 اسٹیشنوں پر داخلے اور اخراج کو محدود کیا گیا تھا۔ ڈی ایم آر سی نے 10 اکتوبر کو مسافروں کی تعداد میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے باعث معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

عدالت میں یہ وضاحتیں متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئیں؛ ان کا ذکر بذاتِ خود پولیس یا میٹرو انتظامیہ کو الزامات سے بری قرار دینے کے مترادف نہیں ہے۔

سی سی ٹی وی اور ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رکھنے کا حکم: احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کی جانچ اور شواہد کے تحفظ کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ وہ احتجاج سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر ڈیجیٹل مواد محفوظ رکھیں۔

عدالت نے نجی افراد کو بھی متعلقہ ویڈیوز اور مواد محفوظ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دی۔ اس حکم کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ احتجاج کے دوران حراست، پولیس کارروائی اور صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی سے متعلق متعدد شکایات سامنے آئی ہیں۔

اس کارروائی کا مقصد متعلقہ واقعات کے شواہد کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ بعد میں ان کا جائزہ لیا جاسکے۔

صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور خاتون صحافی کے معاملے میں اہم پیش رفت: احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ ان میں فری اسپیچ کلیکٹو، نیٹ ورک آف ویمن اِن میڈیا، انڈیا اور دہلی یونین آف جرنلسٹس کی درخواستیں شامل ہیں۔ ان تنظیموں نے الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران صحافیوں کو حراست میں لیا گیا، انہیں ریکارڈنگ سے روکا گیا اور بعض کے موبائل فون، کیمرے یا دیگر آلات ضبط کیے گئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ان معاملات پر نوٹس جاری کیے اور مرکزی حکومت سے جواب داخل کرنے کو کہا۔ خاتون صحافی کے خلاف درج ایف آئی آر کے معاملے میں چیف جسٹس نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ اسے گرفتار نہ کیا جائے۔ سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اگر وہ تفتیش میں شامل ہوتی ہے تو اسے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

خواتین صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات کی جانچ کے لیے عدالت نے ایک کمیٹی تشکیل دینے کے امکان کا بھی اشارہ دیا۔ اس سلسلے میں وکیل اندرا جے سنگھ سے مبینہ طور پر متاثرہ خواتین صحافیوں کے نام اور ممکنہ ریٹائرڈ خاتون ججوں اور پولیس افسران کی تفصیلات سربمہر لفافوں میں پیش کرنے کو کہا گیا۔

یہ معاملہ صحافیوں کی پیشہ ورانہ آزادی، تحفظ اور احتجاجی مقامات پر رپورٹنگ کے حق سے متعلق ہے، اور اسے محض مظاہرین کی گرفتاری کے معاملے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔

پولیس کے اختیارات سے متعلق قانونی شق کو بھی چیلنج کیا گیا: سماعت کے دوران بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 172 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر بھی نوٹس جاری کیے گئے۔ اس دفعہ کا تعلق پولیس افسران کی قانونی ہدایات کی پابندی اور ان کی خلاف ورزی کی صورت میں پولیس کے اختیارات سے ہے۔

عرضی گزاروں نے اس شق کے استعمال اور اس کے دائرۂ اختیار پر سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کا مطلب ہے کہ اس قانونی اعتراض پر متعلقہ فریقوں کا موقف سنا جائے گا؛ اس مرحلے پر دفعہ کو غیر آئینی قرار نہیں دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ وکیلوں کی حراست اور ہراسانی سے متعلق عرضیاں بھی زیرِ سماعت: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن اور دیگر وکلا تنظیموں نے بھی احتجاج کے دوران وکیلوں کو مبینہ طور پر حراست میں لینے، ان کے ساتھ بدسلوکی اور عدالتوں تک رسائی میں رکاوٹوں کے خلاف عرضیاں دائر کی تھیں۔

ان درخواستوں میں حراست میں لیے گئے وکیلوں اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کی تفصیلات فراہم کرنے، ممنوعہ احکامات کو منظرِ عام پر لانے، متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھنے اور وکیلوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی ضمانت دینے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ ان عرضیوں کا تعلق اس سوال سے ہے کہ احتجاج کے دوران نافذ کردہ پابندیوں سے وکیلوں اور عدالتی کارروائیوں تک رسائی کس حد تک متاثر ہوئی۔


Share: