ریاض ، 12/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی )یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل حملوں کے درمیان سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ نے فون پر بات چیت کی ہے۔ اتوار کے روز سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال کیا۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلی بات چیت ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ ان کا ملک سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کرانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے بحرین اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے بھی بات چیت کی۔ دونوں ممالک نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی۔ بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے متوفیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے عوام اور شہری علاقوں پر حملوں کی مذمت کی۔ دونوں ممالک نے خطے میں کشیدگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات کو کم کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
سعودی وزیر خارجہ نے اتوار کے روز اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفادی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس سے بھی بات چیت کی۔ الصفادی نے زخمی اردنی شہریوں کا علاج کرانے کے لیے سعودی حکومت کی تعریف کی۔ کایا کالاس نے اس حملے کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں پر حملے کسی بھی صورت میں درست نہیں ہیں۔ انہوں نے سمندری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں ابتدائی طور پر 12 افراد ہلاک اور309 زخمی ہوئے تھے۔ اس حملہ میں ایک زخمی ہندوستانی شہری کی علاج کے دوران موت کے سبب ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی۔ اتوار کے روز اسی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-4 پر دوبارہ حملہ ہوا۔ ایک میزائل گرنے کی وجہ سے آگ لگ گئی۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق اس حملے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
سعودی حکام نے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی حملے کی اطلاع دی ہے۔ حالانکہ اس بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ دمام بحرین اور قطر کے قریب خلیج عرب کے ساحل پر واقع ہے۔ ہفتے کے روز ہونے والے حملے کو سعودی عرب میں گزشتہ ایک دہائی کا سب سے طاقتور حملہ قرار دیا گیا ہے۔ مسلسل حملوں سے پورے خطے میں جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اسی لیے سعودی عرب دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔