بنگلورو، 18 /اگست (ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ہنورو فائرنگ واقعہ کی تحقیقات سے متعلق تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ او پنیر سیلّوم اور وزیر اعلیٰ وجے کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی نظام میں کسی بھی ریاست کو دوسری ریاست کے انتظامی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
بنگلورو میں منگل کو میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ہندوستان ایک وفاقی نظام کے تحت کام کرتا ہے اور ہر ریاست کو اپنے انتظامی اور قانونی معاملات خود دیکھنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنیر سیلّوم ہوں یا کوئی اور، انہیں کم از کم اس وفاقی نظام کے اصولوں کا احترام کرنا چاہیے۔
ہنورو فائرنگ واقعہ کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو سے کرانے کے مطالبے کے بارے میں سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں تمل ناڈو کے قانونی اور امن و امان سے متعلق معاملات میں کسی بھی طرح مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر ریاست کے اپنے مسائل ہوتے ہیں اور متعلقہ حکومت کو ان سے نمٹنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹک اپنے ریاستی مفادات اور وقار کا تحفظ کرنا جانتا ہے۔ تمل ناڈو کے رہنماؤں کو اپنا کام کرنا چاہیے اور کرناٹک کو اپنے معاملات دیکھنے دینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تمل ناڈو کی انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے کی جانب سے بھی ہنورو واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک معمول کی بحث ہے اور دونوں ریاستوں کو اپنے اپنے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ کرناٹک کی خودمختاری، وقار اور ریاستی مفادات کا تحفظ کیا جانا ضروری ہے۔