بنگلورو ، 3/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کےشیوکمار نے کہا ہے کہ کاویری آبی تنازع کے معاملے میں ریاست اور اس کے عوام کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے اس مسئلے پر ریاست گیر بند کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، کنڑ تنظیموں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور ریاست کے مفاد میں حکومت کا ساتھ دیں۔
اتوار کو کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی کی ہدایات کے تناظر میں منعقدہ کل جماعتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کا اجلاس تاریخی نوعیت کا تھا اور پوری ریاست اس کے فیصلوں پر نظر رکھے ہوئے تھی۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود کاویری طاس سے تعلق رکھتے ہیں، کسان کے بیٹے ہیں اور زراعت کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی فیصلہ نہ وہ کریں گے اور نہ ہی ان کی حکومت کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک میں معمول سے کم بارش ہوئی ہے، جس کے باعث پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ حکومت نے کسانوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے اور جلد ہی ہر ضلع کے حالات کے مطابق فصلوں کے بارے میں رہنما ہدایات جاری کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمل ناڈو کو 3,500 کیوسک پانی چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ حالیہ بارشوں سے اگرچہ صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے اور کبنی آبی ذخیرہ بھر چکا ہے، تاہم حکومت کی پہلی ترجیح پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
ڈی کےشیوکمار نے کہا کہ نہروں میں صرف اتنا ہی پانی چھوڑا جا رہا ہے جس سے پینے کے پانی کے لیے تالاب اور ذخائر بھرے جا سکیں، آبپاشی کے لیے نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں تمل ناڈو حکومت سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی ہے اور وہاں کی حکومت نے بھی پینے کے پانی کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تمام قانونی تقاضوں کی پابندی کرتے ہوئے ماہرین قانون کے مشورے سے آئندہ اقدامات کرے گی۔ ایڈووکیٹ جنرل اور قانونی ماہرین نے کل جماعتی اجلاس میں قانونی پہلوؤں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف آئندہ بھی قانونی فورمز پر مضبوطی سے پیش کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ سال جون اور جولائی کے مقابلے میں اس سال پانی کے ذخائر میں نمایاں کمی رہی، جس کی وجہ سے تمل ناڈو کو پانی کی فراہمی بھی محدود رہی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے باعث آبی ذخائر میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آبی وسائل کے استعمال کی منصوبہ بندی کی جائے گی اور زرعی ماہرین ہر ضلع کے مطابق موزوں فصلوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کل جماعتی اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں نے ریاستی مفاد کے لیے متحد رہنے کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی، جنتا دل (سیکولر)، کنڑ تنظیموں اور دیگر جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ بند کی کال نہ دیں، کیونکہ اس سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہوگا جبکہ ریاستی مفاد اتحاد میں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی۔کے۔ شیوکمار نے انکشاف کیا کہ انہوں نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جوزف وجئے سے بنگلورو کے مجوزہ دورے کو مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حساس حالات میں یہ فیصلہ دونوں ریاستوں کے درمیان خوشگوار ماحول برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاویری تنازع کا دیرپا حل میکے داٹو متوازن آبی ذخیرہ منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اس سے دونوں ریاستوں کو فائدہ پہنچے گا اور پینے کے پانی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسانوں، عوامی نمائندوں، قانونی ماہرین اور متعلقہ محکموں سے مسلسل مشاورت کرتے ہوئے ریاست کے مفادات کا ہر ممکن تحفظ کرے گی اور حالات کے مطابق آئندہ فیصلے کیے جائیں گے۔