لکھنؤ ، 24/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) لکھنؤ کے علی گنج میں واقع ایک کمرشیل عمارت میں پیش آئے آتشزدگی کےمعاملہ میں کارروائی شروع ہوگئی ہے۔اس سلسلے میں جانچ کیلئے ۲؍ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کے ساتھ ہی متعلقہ محکموں کے چار افسران کو معطل کیا گیا ہے۔ پولیس نے بھی کارروائی کرتے ہوئے عمارت کے مالک اور اس میں چلنے والے کاروباری اداروں کے ذمہ داران سمیت۴؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ریاست بھر کے کوچنگ سینٹروں، کمرشیل کمپلیکس اور عوامی استعمال کی عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کی خصوصی جانچ کے احکامات جاری کئے ہیں۔
پولیس کے مطابق علی گنج پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جس عمارت میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، اسے مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر تجارتی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ عمارت میں نہ تو ہنگامی حالات میں باہر نکلنے کے مناسب راستے موجود تھے، نہ ہی دھوئیں کے اخراج اور آگ پر قابو پانے کے مؤثر انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس نے اس معاملے میںغیرارادتاًقتل، انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے اور اتر پردیش فائر اینڈ ایمرجنسی سروسیز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
جانچ کے ابتدائی مرحلے میں پولیس نے عمارت کے مالک ویریندر شکلا، اینی میشن سینٹر سے وابستہ تشانک کرشن جیسوال، رام کرشن اپادھیائے اور ایک دیگر ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار شدگان سے مسلسل پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے اور مزید ذمہ دار افراد کے خلاف بھی کارروائی کے امکانات موجود ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کے اسباب اور اس میں انسانی غفلت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔حادثے کے بعد لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (ایل ڈی اے) نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے متاثرہ عمارت کو دوبارہ انہدامی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ایل ڈی اے کے نائب صدر پرتھمیش کمار کے مطابق مذکورہ عمارت کے خلاف غیر مجاز تعمیرات کے سلسلے میں ۲۰۱۶ء میں بھی انہدامی حکم جاری کیا گیا تھا، تاہم دو ماہ سے بھی کم عرصے میں اس حکم کو واپس لے لیا گیا تھا۔ اب تازہ جانچ کے بعد عمارت میں متعدد تعمیراتی اور حفاظتی خلاف ورزیوں کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے پیش نظر دوبارہ مسماری کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ایک رہائشی نوعیت کی عمارت کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی اجازت کس طرح ملی اور متعلقہ محکمے طویل عرصے تک اس صورتحال سے کیوں بے خبر رہے؟ اس سلسلے میں محکمہ جاتی سطح پر جوابدہی طے کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں اب تک چار افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیںمعطل کیا گیا ہے۔ معطل کئے جانے والوں میں توانائی محکمہ کے جانکی پورم میں تعینات ایگزیکٹیو انجینئر (کلیکشن) گورو کمار، اندرا نگر فائر اسٹیشن کے فائر اسٹیشن سیکنڈ آفیسر کملیندر کمار سنگھ، ایل ڈی اے کے اسسٹنٹ انجینئر انیل کمار اور جونیئر انجینئر پرمود پانڈے شامل ہیں۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر مزید افسران یا ملازمین کی غفلت سامنے آتی ہے تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ۲؍ رکنی ایس آئی ٹی نےمنگل کی صبح جائے حادثہ کا دورہ کیا اور اپنی جانچ کا آغاز کر دیا۔ایس آئی ٹی میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری (سیاحت) امرت ابھیجات اور لکھنؤ زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پروین کمار شامل ہیں۔
یوپی کانگریس کمیٹی کے صدر اجے رائے نے اس حادثے کو نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس سانحے کو شدید غفلت کی ایک مثال بتایا۔ منگل کو انہوں نے اس اسپتال کا دورہ کیا، جہاں زخمی طلبہ زیر علاج ہیں۔انہوں نے کہا کہ راجدھانی میں جہاں وزیر اعلیٰ، نائب وزرائے اعلیٰ، کابینی وزراء اور اراکین اسمبلی رہتے ہیں، اس نوعیت کا حادثہ پیش آنایوگی حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ معاملہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن تک پہنچ گیا ہے۔ واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل اور انسانی حقوق کے محقق ڈاکٹر گجیندر سنگھ یادو نے کمیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔