ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کم نمبرات کوئی رکاوٹ نہیں! کریئر کے دروازے اب بھی کھلے ہیں؛ دسویں اور بارہویں میں کم نمبر پانے والے طلبہ کیلئے رہنمائی

کم نمبرات کوئی رکاوٹ نہیں! کریئر کے دروازے اب بھی کھلے ہیں؛ دسویں اور بارہویں میں کم نمبر پانے والے طلبہ کیلئے رہنمائی

Wed, 18 Jun 2025 14:32:20    S O News
کم نمبرات کوئی رکاوٹ نہیں! کریئر کے دروازے اب بھی کھلے ہیں؛ دسویں اور بارہویں میں کم نمبر پانے والے طلبہ کیلئے رہنمائی

بھٹکل، 18 جون (ایس او نیوز): دسویں یا بارہویں جماعت میں کم نمبرات حاصل کرنے والے یا JEE، CET، NEET جیسے انٹرنس امتحانات میں ناکامی کا سامنا کرنے والے طلبہ و طالبات اور ان کے والدین اکثر فکرمند ہوتے ہیں کہ اب تعلیمی سفر کو کیسے جاری رکھا جائے؟ کیونکہ میڈیکل، انجینئرنگ، فارمیسی اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز میں داخلہ عموماً انٹرنس امتحانات اور میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے، جس میں ناکامی کی صورت میں طلبہ کو اپنا قیمتی وقت ضائع ہونے کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے، یا پھر پرائیویٹ اداروں میں بھاری فیس اور ڈونیشن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تاہم ماہرین تعلیم اس خیال کو مسترد کرتے ہیں کہ کم نمبرات والے طلبہ کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ مالیگاؤں کے معروف ماہر تعلیم ایس این انصاری کا کہنا ہے کہ ایسے طلبہ کے لیے انجینئرنگ ڈپلومہ کورس (پولی ٹیکنک) ایک بہترین متبادل ثابت ہو سکتا ہے، جس میں دسویں یا بارہویں (چاہے وہ آرٹس، سائنس یا کامرس ہو) کے بعد داخلہ لیا جا سکتا ہے۔

ڈپلومہ کورس: ایک قابل عمل متبادل
ایس این انصاری کے مطابق انجینئرنگ ڈپلومہ کورس کی تکمیل نہ صرف تعلیمی نقصان سے بچاتی ہے بلکہ انجینئرنگ کے شعبہ میں کامیاب کریئر کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے مزید راستے جیسے lateral entry کے ذریعے براہ راست انجینئرنگ ڈگری کے دوسرے سال میں داخلہ بھی ممکن ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اور نجی اداروں میں ملازمت یا ذاتی کاروبار کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔

وہ طلبہ جو فوری روزگار چاہتے ہیں
ایسے طلبہ جو دسویں کامیاب کرنے کے بعد کسی وجہ سے آگے تعلیم جاری نہیں رکھ سکے یا فوری روزگار کے خواہاں ہیں، ان کے لیے تین سالہ انجینئرنگ ڈپلومہ کورس ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد یا تو اچھی تنخواہ والی ملازمت حاصل کی جا سکتی ہے یا آگے انجینئرنگ کی ڈگری کی طرف پیش قدمی کی جا سکتی ہے۔

سرکاری اسکالرشپ اور سہولیات
اس ضمن میں حکومتِ کرناٹک کی جانب سے اقلیتی طلبہ کیلئے کئی سہولیات اور اسکالرشپ اسکیمیں دستیاب ہیں۔ بھٹکل کے اقلیتی بہبود افسر جناب شمس الدین صاحب نے بتایا کہ اقلیتی طلبہ کو ہرسال  انجینئرنگ کورس کے لیے 25 ہزار روپے کی مالی امداد کے ساتھ ہاسٹل کی مفت سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ دیگر ڈپلومہ کورسز کے لیے بھی مختلف اسکالرشپ اسکیمیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ بغیر سود کے 50 ہزار روپے تک کا تعلیمی قرضہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

والدین اور طلبہ کیلئے پیغام
طلبہ اور ان کے والدین سے اپیل ہے کہ وہ کم نمبرات کو ناکامی نہ سمجھیں بلکہ متبادل مواقع کی تلاش اور بروقت فیصلہ سازی کے ذریعے اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ اور روشن بنائیں۔ دستیاب سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں اور تعلیمی سفر کو جاری رکھیں، کیونکہ کامیابی کے دروازے محنت، رہنمائی اور صحیح سمت اختیار کرنے سے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔


Share: