ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش مقررہ حد سے تجاوز، بعض نمونوں میں 31.2 فیصد مقدار کا انکشاف

کرناٹک میں پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش مقررہ حد سے تجاوز، بعض نمونوں میں 31.2 فیصد مقدار کا انکشاف

Sat, 07 Nov 2026 11:22:23    S O News
کرناٹک میں پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش مقررہ حد سے تجاوز، بعض نمونوں میں 31.2 فیصد مقدار کا انکشاف

بنگلورو ، 7/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک میں پٹرول کے اندر ایتھنول کی مقررہ حد سے زیادہ آمیزش کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ قانونی پیمائش کی جانب سے کرائی گئی جانچ میں بعض پٹرول پمپس سے حاصل کردہ نمونوں میں ایتھنول کی مقدار 31.2 فیصد تک پائی گئی، جبکہ مرکزی حکومت کی مقررہ حد 20 فیصد ہے۔ اس انکشاف کے بعد ریاستی حکومت نے پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کے حقیقی تناسب کو واضح کرنے اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والی تیل کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ریاستی وزیر برائے خوراک، شہری رسد، صارفین کے امور اور قانونی پیمائش رضوان ارشد کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق بنگلورو، کولار، چکبالاپور، بنگلورو رورل، رام نگر، منگلورو اور ٹمکورو سمیت 7 اضلاع میں پٹرول کے نمونوں کی جانچ کی گئی۔ ان نمونوں میں سرکاری اور نجی تیل کمپنیوں کے پٹرول میں مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول کی آمیزش پائی گئی۔

بنگلورو کے شری رام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، جو این اے بی ایل سے منظور شدہ اور آئی ایس او سرٹیفائیڈ لیبارٹری ہے، کی آزادانہ جانچ میں انڈین آئل، ہندوستان پٹرولیم، بھارت پٹرولیم، نیارا انرجی اور شیل کمپنیوں کے پٹرول کے نمونوں میں بھی مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول کی مقدار کی تصدیق ہوئی۔

لیبارٹری رپورٹ کے مطابق انڈین آئل کے ایک نمونے میں 31.2 فیصد، ہندوستان پٹرولیم کے مختلف نمونوں میں 30.5 اور 27 فیصد، بھارت پٹرولیم کے نمونوں میں 26.5، 24.2 اور 22.6 فیصد، نیارا انرجی میں 26.1 اور 20.6 فیصد جبکہ شیل کے ایک نمونے میں 25.5 فیصد ایتھنول پایا گیا۔ دیگر نمونوں میں بھی 20 فیصد سے زائد آمیزش سامنے آئی، تاہم بھارت پٹرولیم کے ایک نمونے میں 19.9 فیصد اور ایم آر پی ایل کے نمونے میں 19.2 فیصد ایتھنول درج کیا گیا۔ شیل کے ایک نمونے میں یہ شرح 13.5 فیصد پائی گئی۔

محکمہ کے مطابق ابتدائی طور پر پٹرول کے نمونے انڈین آئل اور بھارت پٹرولیم کی داخلی لیبارٹریوں کو بھیجے گئے تھے، لیکن ریاستی حکومت کا الزام ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے واپس بھیجی گئی ٹیسٹ رپورٹس میں ایتھنول کی مقدار کا ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ جانچ کا لازمی جزو ہے۔ اس کے بعد محکمہ نے آزادانہ اور مستند جانچ کے لیے تیسرے فریق کی لیبارٹری سے رجوع کیا۔

ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پٹرول میں مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول کی آمیزش سے گاڑیوں کی مائلیج متاثر ہونے کے ساتھ ان کے انجن اور دیگر اہم پرزوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ محکمہ کے تخمینے کے مطابق اس بے ضابطگی کے باعث ملک بھر کے صارفین پر سالانہ تقریباً 1.01 لاکھ کروڑ روپے کا اضافی اقتصادی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان میں سالانہ تقریباً 6,200 کروڑ لیٹر پٹرول استعمال ہوتا ہے۔ ایتھنول کی زیادہ مقدار کے باعث ایندھن کی کارکردگی میں کمی سے تقریباً 62 ہزار کروڑ روپے اور گاڑیوں کے پرزوں کی قبل از وقت خرابی اور مرمت پر مزید 39 ہزار کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

محکمہ نے نشاندہی کی ہے کہ ہندوستان کی سڑکوں پر چلنے والی تقریباً 35 کروڑ گاڑیوں میں سے 99 فیصد گاڑیاں ای-20 سے زیادہ ایتھنول آمیز پٹرول کے استعمال کے لیے تیار نہیں کی گئی ہیں۔ اپریل 2023 کے بعد تیار ہونے والی گاڑیوں کو بھی 20 فیصد ایتھنول آمیزش تک ہی سرٹیفائیڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بیشتر پٹرول پمپس پر نصب فیول ڈسپنسنگ مشینیں بھی زیادہ سے زیادہ 15 فیصد ایتھنول آمیزش کے لیے تکنیکی طور پر سرٹیفائیڈ ہیں۔

کرناٹک حکومت نے اس معاملے میں مرکزی وزراء برائے روڈ ٹرانسپورٹ و شاہراہیں اور پٹرولیم و قدرتی گیس سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے ملک بھر میں پٹرول میں ایتھنول کی حقیقی آمیزش کی شرح واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والی تیل کمپنیوں کے خلاف سخت جرمانے عائد کرنے، متاثرہ گاڑی مالکان کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے خصوصی ای-20 اسپیلیج فنڈ قائم کرنے اور پٹرول پمپس پر فیول نوزل کے مقام پر ایتھنول کی اصل مقدار درج کرنے کو لازمی قرار دینے کی بھی سفارش کی ہے، تاکہ صارفین کو ایندھن کے انتخاب کا حق حاصل رہے۔

ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش سے متعلق بے ضابطگیوں کی روک تھام اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے مشن نکھرا (Mission Nikhara) کے تحت ریاست گیر کارروائی جاری رکھی جائے گی۔


Share: