نئی دہلی /لندن، 10/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی )یورپی یونین نے ہندوستان، چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں واقع 50 کمپنیوں کو جھٹکا دیا ہے۔ یورپی یونین نے منگل کے روز یوکرین پر حملے کی وجہ سے روس پر 21ویں پابندی پیکیج کا اعلان کر دیا۔ ان پابندیوں نے اچانک تقریباً 50 کمپنیوں کے سامنے بحران پیدا کر دیا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ہندوستان اور دیگر ممالک کی ان 50 کمپنیوں پر برآمدی اقدامات نافذ کئے جائیں گے جو روس کی فوج کے ساتھ براہ راست کاروبار کرتی ہیں۔
یورپی یونین کے اس اعلان کا اثر ہندوستان اور چین کے ساتھ ہی کرغستان، قزاخستان، متحدہ عرب امارات میں واقع کمپنیوں پر پڑے گا اور ان پر ایکسپورٹ پابندیاں لگائی جائیں گی۔ یورپی یونین نے یہ فیصلہ روس کی جنگی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے مقصد سے کیا ہے لیکن اس سے صرف روس ہی نہیں، تمام ممالک متاثر ہوں گے۔ نئی فہرست میں ڈرون مینوفیکچرنگ سے وابستہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جن پر برآمدی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔
مجوزہ 21ویں پابندی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کاجا کالس نے کہا کہ یہ اقدامات یوکرین میں اپنی فوجی مہم کو برقرار رکھنے اور مالی اعانت فراہم کرنے کی ماسکو کی صلاحیت پر لگام لگانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم آہستہ آہستہ روس کی جنگی معیشت کی بنیاد کو تباہ کر تے جا رہے ہیں، اب برسیلز 2 سال سے زائد عرصہ میں روس پر پابندیوں کی سب سے بڑی فہرست تیار کر رہا ہے۔
یورپی یونین کے مجوزہ پیکیج میں ان بینکوں، ہتھیار بنانے والوں، تیل کاروباریوں، ریفائنریوں اور کرپٹو آپریٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو تیسرے ممالک میں واقع ہیں اور ان پر روس کو موجودہ پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنے کا الزام ہے۔ کالس کے مطابق تقریباً 90 بینکوں کے اثاثے ضبط کئے جاسکتے ہیں جبکہ روس اور دیگر ممالک کے 30 سے زائد بینکوں کے ساتھ لین دین پر مزید پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ 11 کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم پر بھی ٹرانزیکشن پابندی لگانے کی تیاری ہے۔ اس درمیان انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین روسی انرجی ایکسپورٹ سے ہونے والی آمدنی کو کم کرنے کے لیے روسی تیل کی قیمت کی حد پر عارضی پابندی لگانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
کاجا کالس نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر بھی ان پابندیوں سے متعلق معلومات شیئر کی۔ اس میں انہوں نے کہا کہ ہم روس کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کو سپورٹ کرنے والی تمام کمپنیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ نئی فہرست میں ڈرون مینوفیکچرنگ شعبہ سے وابستہ 30 سے زائد اداروں کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی 50 کمپنیوں پر نئے ایکسپورٹ کنٹرول اقامات نافذ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روس کی پیداواری صلاحیت کو مزید محدود کرنے کے لیے اضافی برآمدی پابندیاں بھی لگائیں گے۔ ان میں نکل پاؤڈر، دھاتیں اور اعلیٰ کارکردگی والے مرکبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نئی اشیاء کی درآمد پر بھی پابندی لگائی جائے گی جن میں آٹو پارٹس، کئی قیمتی دھاتیں اور کیمیکلز شامل ہیں۔