نئی دہلی ، 10/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کا راجیہ سبھا پرچۂ نامزدگی منسوخ ہونے پر کانگریس لیڈران نے بی جے پی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ غیر آئینی ہے، اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ بھوپال میں میڈیا سے بات چیت کے دوران سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا کہ یہ بہت حیرانی کی بات ہے۔ یہ فیصلہ بدنیتی پر مبنی لگتا ہے۔ یہ بھی صاف ہے کہ پہلے بھی ایسے کئی معاملات ہوئے ہیں جن میں ایسی باتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر یا مجرمانہ مقدمہ درج نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان کا نامزدگی فارم منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ انتہائی قابل اعتراض ہے۔
کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے مزید کہا کہ کانگریس کا ایک وفد الیکشن کمیشن سے مل رہا ہے۔ اس بارے میں کوئی بھی معلومات ہمیں میٹنگ ختم ہونے کے بعد ہی ملے گی۔ ہم اس کے خلاف متحد ہو کر لڑیں گے۔ ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ میناکشی نٹراجن کا راجیہ سبھا کا پرچۂ نامزدگی منسوخ کرنا غیر آئینی ہے۔ جس بنیاد پر نامزدگی منسوخ کی گئی، آج تک اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہے۔ صرف نوٹس جاری ہوا ہے جس کا ذکر پرچۂ نامزدگی میں کرنا لازمی بھی نہیں ہے۔ یہ تو سراسر ووٹ چوری ہے۔ ہماری لڑائی جاری رہے گی۔
دگ وجے سنگھ کے علاوہ کانگریس کے دیگر سینئر لیڈر کمل ناتھ کا بھی میناکشی نٹراجن معاملے میں بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش سے کانگریس کی راجیہ سبھا امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی منسوخ کیا جانا مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ملک میں جمہوریت اور آئین کا قتل کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی ہر سطح پر ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرے گی۔
مدھیہ پردیش سے کانگریس لیڈر جیتو پٹواری نے کہا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے ہاتھ جمہوریت کے خون سے سنے ہوئے ہیں۔ آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی منسوخ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اس کے خلاف بھوپال میں کانگریس کے تمام ساتھیوں کے ساتھ ایک روزہ بھوک ہڑتال کر کے اپنا احتجاج درج کرایا۔