ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مدھیہ پردیش سیاست میں ہلچل، موہن یادو پر مفادات کے ٹکراؤ کا سوال

مدھیہ پردیش سیاست میں ہلچل، موہن یادو پر مفادات کے ٹکراؤ کا سوال

Wed, 24 Jun 2026 10:50:17    S O News

بھوپال ، 24/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)  مدھیہ پردیش کانگریس نے وزیر اعلیٰ موہن یادو پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے استعفے اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں آزادانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کے خاندان کی زمینوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے قریبی   رشتے داروں نے وہیں   زمینیں خریدیں جہاں سرکاری پروجیکٹ شروع ہونے والے ہیں۔ ایم پی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے اس معاملے میں پریس کانفرنس کے یہ مطالبہ کیا ہے۔

 اس سلسلے میں انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے ایک طویل تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق وزیر اعلیٰ کے خاندان کی ملکیت تقریباً ۱۰۰؍ ایکڑ سے بڑھ کر۳۳۵؍ ایکڑ تک پہنچ گئی ہے۔ صرف ڈیڑھ سے دو برس کے عرصے میں زمینوں میں اتنا بڑا اضافہ کیسے ممکن ہے۔   موہن یادو اور ان کے رشتے داروں سے  وابستہ رئیل اسٹیٹ کمپنیوں نے دسمبر۲۰۲۳ء کے بعد دو برسوں میں اجین اور اس کے اطراف کم از کم۱۳۷؍پلاٹس خریدے، جن کا مجموعی رقبہ ۱۶۸؍ ایکڑ بتایا جاتا ہے۔ ان زمینوں کی مالیت تقریباً ۴۵؍ کروڑ روپے  ہے۔ ان میں سے بیشتر زمینیں ان علاقوں میں واقع ہیں جہاں حکومت نے نئی سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کا اعلان کیا یا جہاں اجین ماسٹر پلان کے تحت زرعی زمین کو رہائشی اور تجارتی استعمال میں تبدیل کرنے کی تجویز   ہے۔

کھتونی (  ملکیت اراضی) کے ریکارڈ کے مطابق یہ پلاٹس موہن یادو کی اہلیہ سیما یادو، بیٹے ویبھو یادو کی اہلیہ شالینی یادو، ان کے بھائی نند لال اور نارائن یادو، نارائن کی اہلیہ ریکھا یادو، ان کے بیٹے ابھئے یادو اور چچا زاد بھائی گووند اور نلیش یادو کے نام خریدے گئے۔ یہ خریداری یا تو براہِ راست کی گئی یا پھر خاندان کی ملکیت والی چار رئیل اسٹیٹ کمپنیوں میں سے کسی ایک کے ذریعے انجام دی گئی ہے۔یاد رہے کہ موہن یادو۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۰ء تک اجین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے چیئرمین رہے،پھر وہ مدھیہ پردیش ٹورازم  کے سربراہ  بھی رہے جبکہ  ۲۰۱۳ ء سے وہ اجین سے رکن اسمبلی ہیں۔ 


Share: