نئی دہلی، 28/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) پیپر لیک کے خلاف وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ جنتر منتر پر ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے احتجاج کو سنیچر کو ایک ہفتہ مکمل ہوگیا۔ اس بیچ مہاراشٹر میں ’ٹی ای ٹی‘ کا پیپر لیک ہونے اور پرچہ منسوخ ہونے پر پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ہفتہ نے الزام لگایا کہ ’’یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جےپی حکومت ایک امتحان بھی منعقد نہیں کرواسکتی۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ دہرایا۔
سنیچر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دپکے نے کہا کہ نیٹ تنازع کے بعد مہاراشٹر ٹیچرز ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی ) کا پرچہ لیک ہونے کے باعث امتحان منسوخ کرنا حکومت کی امتحانات کے انعقاد میں ناکامی کی ایک اور مثال ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’پہلے نیٹ اور اب مہاراشٹر ٹی ای ٹی کا پرچہ لیک ہونے کے بعد آخری وقت میں امتحان منسوخ کر دیا گیا۔ طلبہ اور اساتذہ۲۰۱۷ءسے ٹی ای ٹی گھوٹالوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن حکام نظام کو درست کرنے کے بجائے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ‘‘
انہوں نے الزام لگایاکہ’’مہاراشٹر میں ٹی ای ٹی پرچہ لیک سے واضح ہو گیا ہے کہ چاہے ریاستی سطح ہو یا قومی سطح، بی جے پی حکومت ایک بھی امتحان شفاف طریقے سے منعقد نہیں کرا سکتی۔ انہیں صرف سیاسی جماعتیں توڑنے اور اراکین اسمبلی و پارلیمان کو اپنی طرف ملانے میں دلچسپی ہے۔ ‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’’اراکین پارلیمان کو خریدنے کیلئے پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟‘‘ انہوں نے اپنے اس عزم کو بھی دہرایا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بغیر جنتر منتر پر جاری یہ احتجاج ختم نہیں ہوگا۔
تعلیمی نظام میں اصلاح اور وزیرتعلیم کے استعفیٰ کیلئے جنتر منتر پر احتجاج کو تقویت دینے کیلئے معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک نے اتوار سے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔ جنتر منتر پر امڈنے والی بھیڑ میں کمی کو دیکھتے ہوئے منتظمین کو امید ہے کہ وانگ چک کی بھوک ہڑتال سے مظاہرین کی توجہ اس جانب مبذول ہوگی اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔