ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ذات پر مبنی مردم شماری کے سوالنامے پر کانگریس کی مودی حکومت پر تنقید، طریقہ کار کو قرار دیا غلط

ذات پر مبنی مردم شماری کے سوالنامے پر کانگریس کی مودی حکومت پر تنقید، طریقہ کار کو قرار دیا غلط

Wed, 19 Aug 2026 18:00:43    S O News

نئی دہلی ، 19/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس نے ’مردم شماری 2027‘ میں ذات، مذہب اور والدین سے متعلق معلومات جمع کرنے کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے الزام عائد کیا ہے کہ ذات سے متعلق سوالات کی ساخت جان بوجھ کر غلط رکھی گئی ہے اور مردم شماری کے پیچھے ’کوئی گہرا اور برا مقصد‘ ہو سکتا ہے۔ کانگریس نے خاص طور پر 2021 کے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا ہے کہ جب حکومت نے ذاتوں کی شناخت کے لیے ’ڈراپ ڈاؤن مینو‘ کی افادیت بتائی تھی، تو ’مردم شماری 2027‘ میں اسے شامل کیوں نہیں کیا گیا۔

جئے رام رمیش نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک میڈیا رپورٹ شیئر کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’مردم شماری 2027‘ کے دوران والدین (ماں اور باپ دونوں) کے مذہب، تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش کی معلومات طلب کی جا رہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ معلومات گاؤں کی سطح تک درج کی جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق مردم شماری کے سوال و جواب والے فارم میں ذات بتانے کے لیے کھلا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جواب دینے والا شخص ’ذات نہیں بتانا چاہتے‘ اور ’کوئی ذات نہیں‘ جیسے اختیارات بھی منتخب کر سکتا ہے۔

اس بارے میں جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مردم شماری 2027 میں ذات کے بارے میں سوال پوچھنے کا طریقہ جان بوجھ کر غلط اختیار کیا گیا ہے۔ مذہب، تاریخ پیدائش اور والدین کی جائے پیدائش کے بارے میں اتنے باریک سوالات پہلے کبھی نہیں پوچھے گئے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مردم شماری خفیہ ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ’مردم شماری 2027‘ کے پیچھے کوئی گہرا اور برا مقصد ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے 18 اگست کو بھی الزام عائد کیا تھا کہ مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کو روکنا چاہتی ہے۔ پارٹی نے سوال اٹھایا تھا کہ ’مردم شماری 2027‘ میں ذات منتخب کرنے کے لیے ڈراپ ڈاؤن مینو کیوں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ مرکزی حکومت نے ستمبر 2021 میں سپریم کورٹ میں داخل اپنے حلف نامہ میں اس کی سفارش کی تھی۔ اپوزیشن پارٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 30 اپریل 2025 کو ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کر کے ’مکمل یو ٹرن‘ لیا تھا، اور اب حکومت ’اپنے ہی پہلے والے یو ٹرن پر یو ٹرن‘ لے رہی ہے۔


Share: