بھٹکل،27/ مئی (ایس او نیوز) تعلقہ کے پڈو شیرالی میں روزانہ محنت مزدوری سے اپنی روزی حاصل کرنے کے لئے سہارا بنی ہوئی چھوٹی سی پلّی ندی اتوار کو بیک وقت 11 افراد کے لئے پانی کا قبرستان بن گئی اور اس کے نتیجے میں ایک طرف ایک ہی دن میں 24 بچے یتیم ہوگئے تو دوسری طرف عمر رسیدہ افراد اپنے خاندان کے کمانے اور پالنے والوں سے محروم ہوگئے ۔ کسی گھر میں کسی کی ماں اور بیٹا نہیں رہے تو کوئی گھر بیک وقت دو بہووں سے خالی ہو گیا ہے ۔ یا پھر کسی گھر میں میاں بیوی دونوں فوت ہوگئے ہیں ۔
بھٹکل سے شروع ہو کر پڈو شیرالی سے ہوتے ہوئے الوے کوڈی کے پاس سمندر میں ملنے والی یہ ندی ہمیشہ سے یہاں کنارے پر بسنے والوں کے لئے زندگی کا سہارا بنی ہوئی ہے ۔ مردوں کے علاوہ خواتین بھی ندی میں تیرنا جانتی ہیں ۔ جب ندی میں بھاٹا ہوتا ہے اور پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو یہ لوگ اس ندی میں اتر کر یا دوسرے کنارے پر جا کر وہاں پانی میں ڈوب کر زمین یا چٹان پر چپکی ہوئی سیپیوں سے گوشت نکالتے ہیں اور پھر اسے مچھلیوں کے ساتھ مارکیٹ میں فروخت کرکے روزی روٹی کماتے ہیں ۔ اس گوشت کو انگریزی میں اویسٹر، کونکنی، نوائطی اور مرہٹی میں 'کالوا ماس' کہتے ہیں ۔
اس حادثے میں فوت ہونے تمام گیارہ افراد محنت مزدوری سے اپنا اور گھر والوں کو پیٹ پالنے والے تھے ۔ ان میں 24 سال سے 60 سال کی عمر تک کے لوگ شامل ہیں ۔ اب ان کے متعلقین جو زندہ ہیں ، ان کے لئے جینے کا سہارا چھوٹ گیا ہے ۔ ان بے سہارا ہونے والوں میں پرائمری اسکول سے لے کر کالج تک میں زیر تعلیم 12 لڑکیاں اور 12 لڑکے شامل ہیں ۔
یہ حادثہ ہوا کیسے ؟ : اتوار صبح کے وقت جب ندی میں پانی کی سطح کم تھی تو دو مردوں اور 12عورتوں پر مشتمل یہ ٹیم پیدل ہی ندی پار کرکے دوسری طرف چلی گئی اور وہاں یہ لوگ پانی کے اندر سے سیپوں کا گوشت 'کالوا ماس' جمع کرنے میں مشغول ہوگئے ۔ دوپہر تقریباً 12 بجے کے قریب اچانک ندی میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھنے لگی ۔ موسم کی تبدیلی اور گزشتہ رات ہوئی برسات کی وجہ سے پانی کی مقدار اور بہاو کو بڑھتے ہوئے دیکھ کر ان لوگوں نے عجلت میں واپسی کا ارادہ کیا اور واپس اپنے گھروں کی طرف آنے کے لئے پیدل ہی ندی پار کرنے کی کوشش کی ۔
اسی دوران پانی کا بہاو مزید تیز ہوگیا اور ان کے قدم اکھڑ گئے اور سب ایک ساتھ ندی میں بہنے اور ڈوبنے لگے ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس موقع پرخواتین کے ساتھ ندی پار کر رہے اومیش منجو ناتھ نائک نے ایک خاتون کو کسی طرح بچا کر کنارے پر پہنچا دیا ۔ پھر جب وہ ڈوبتی ہوئی دوسری خاتون کو بچانے کے لئے آگے بڑھا تو مبینہ طور پر اس خاتون نے اپنی جان بچانے کی کوشش میں اومیش کی ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لیں جس سے وہ تیرنے کے قابل نہیں رہا اور نتیجہ کے طور پر وہ بھی اسی خاتون کے ساتھ غرقاب ہو گیا ۔ اس موقع پر موجود ایک اور شخص کو مزید ایک خاتون کو پوری طرح ڈوبنے سے بچا لیا ۔
پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے:معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے حادثات اس سے پہلے بھی ہو چکے ہیں مگر اس بار بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا اتلاف ہوا ہے ۔ یہ حادثات ماہی گیری سے ذرا مختلف اس وجہ سے ہیں کہ مچھلی کے شکار میں کانٹے اور ڈور یا پھر جال کا استعمال ہوتا ہے ۔ جبکہ سیپیوں سے گوشت نکالنے کے لئے پانی کے اندر اترنا یا پھر ڈوب کر زمین یا چٹانی حصوں سے چپکی ہوئی سیپیاں ڈھونڈنا اور انہیں اکھاڑنے کے بعد ان کے اندر سے گوشت نکال کر جمع اور فروخت کرنا پڑتا ہے ۔
یہ اس علاقے کی خواتین کا عام پیشہ ہے اور تقریباً روزانہ ہی اسے انجام دیا جاتا ہے ۔ اس دوران پانی میں ڈوبنے اور ہلاک ہونے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ۔ دستیاب معلومات کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے عرصے میں اس طرح سیپیوں سے گوشت نکالنے کے دوران الگ الگ واقعات میں 30 سے زیادہ افراد کی جان جا چکی ہے ۔ البتہ اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت غرقابی اور اموات کا حادثہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے ۔