نئی دہلی ، 25 /جون (ایس او نیوز/ایجنسی)ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے بعد دنیا کی سب اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز میں حالات معمول پر آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اب تک ہندوستان سے متعلق 30 بحری جہاز اس اسٹریٹجک سمندری راستے سے بحفاظت گزر چکے ہیں، جب کہ 26 دیگر جہاز ابھی بھی خلیجی علاقے میں گزرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 جہازوں میں سے تقریباً نصف ایل پی جی اور ایل این جی جیسی توانائی مصنوعات لے کر چل رہے تھے۔ اس کے علاوہ 8 بحری جہاز بلک کارگو اور 7 جہاز خام تیل کی کھیپ لے کر ہندوستان کی طرف بڑھے ہیں۔ ان 30 بحری جہازوں میں 17 غیر ملکی جھنڈے والے کنٹینر بھی شامل ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ 5 جہاز مارشل جزائر کے جھنڈے کے ساتھ چلائے جارہے ہیں۔
جہاز رانی کی وزارت کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت خلیج فارس میں موجود 26 ہندوستانی مفاد والے جہازوں میں 3 توانائی مصنوعات، 10 کھاد اور 13 دیگر سامان لے کر چل رہے ہیں۔ ان جہازوں کے محفوظ گزرنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق یکم مارچ سے 17 جون کے درمیان 19 جہازوں نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا تھا۔ تاہم، گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد صرف چند دنوں میں مزید 11 جہاز محفوظ پور سے اس راہداری سے گزر چکے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری سرگرمیاں بتدریج معمول پر آ رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے لائف لائن مانا جاتا ہے۔ دنیا کی تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ہندوستان کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ ملک اپنی ایل این جی اور ایل پی جی ضروریات کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ مغربی ایشیا میں جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے کی گئی آبنائے ہرمز کی بندش نے توانائی کی عالمی منڈی میں خاصی ہلچل مچا دی تھی۔ اس دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور سمندری ترسیل متاثر ہوئی۔ حالانکہ اب سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکہ-ایران مذاکرات اور جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششوں کے درمیان بازار میں راحت کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
سمندری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے، جو فروری کے آخر کے بعد سب سے بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسی کے ساتھ امریکی تیل کی قیمتیں بھی جنگ شروع ہونے کے بعد کی سب سے نچلی سطح پر آگئی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا رہتا ہے تو اس سے توانائی کی عالمی منڈی اور سمندری تجارت کو خاطر خواہ راحت مل سکتی ہے۔ فی الحال دنیا کی نظریں سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات اور خلیجی خطے میں سلامتی کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔