ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ₹2,000 سے زائد UPI ادائیگی پر 0.4 فیصد MDR: شخص سے شخص رقم بھیجنے کی سروس مفت

₹2,000 سے زائد UPI ادائیگی پر 0.4 فیصد MDR: شخص سے شخص رقم بھیجنے کی سروس مفت

Wed, 16 Sep 2026 10:44:01    S O News
₹2,000 سے زائد UPI ادائیگی پر 0.4 فیصد MDR: شخص سے شخص رقم بھیجنے کی سروس مفت

نئی دہلی ، 16/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی): مہنگائی، بے روزگار ی اور گھریلو اخراجات کے دباؤ سے پہلے ہی پریشان عام لوگوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کے میدان سے ایک نئی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے اعلان کیا ہے کہ 15 اکتوبر 2026 سے ₹2,000 سے زیادہ کی مخصوص UPI Person-to-Merchant (P2M) ادائیگیوں پر 0.4 فیصد Merchant Discount Rate (MDR) نافذ ہوگا۔ اگرچہ کہا گیا ہے کہ یہ رقم براہِ راست صارف کے بینک اکاؤنٹ سے نہیں کاٹی جائے گی، لیکن اس فیصلے سے دکانداروں اور کاروباری اداروں کی ادائیگی لاگت بڑھے گی، جس کے نتیجے میں اس اضافی لاگت کا کچھ حصہ بالواسطہ طور پر صارفین تک پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔

₹3,000 کی خریداری پر ₹12، ₹10,000 پر ₹40: 
نئے نظام میں ₹3,000 کی UPI ادائیگی پر مرچنٹ کو ₹12 MDR دینا ہوگا، جبکہ ₹10,000 کی ادائیگی پر ₹40 کا چارج بنتا ہے۔ ₹50,000 کی ادائیگی پر یہ رقم ₹200 ہوگی اور ₹75,000 یا اس سے زیادہ کی ٹرانزیکشن پر زیادہ سے زیادہ MDR ₹300 مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی ₹1 لاکھ کی UPI ادائیگی پر بھی زیادہ سے زیادہ ₹300 MDR ہوگا۔

یہ رقم بظاہر چھوٹی محسوس ہوسکتی ہے، لیکن ایسے کاروبار جہاں روزانہ بڑی تعداد میں ₹2,000 سے زائد کی ڈیجیٹل ادائیگیاں ہوتی ہیں، وہاں مجموعی ماہانہ لاگت خاصی بڑھ سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عام صارف کے لیے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرچنٹ اس اضافی لاگت کو کہاں سے پورا کرے گا؟

صارف سے براہِ راست رقم نہیں، لیکن قیمتوں پر اثر کا سوال برقرار:
نئے فریم ورک کے تحت دکاندار صارف سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ ₹3,000 کی خریداری کے بدلے UPI فیس کے نام پر مزید ₹12 ادا کریں۔ NPCI کے قواعد کے مطابق MDR صارف پر منتقل نہیں کیا جانا چاہیے۔

بھلے ہی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے  کہ ₹3,000 کا بل ادا کرنے والے صارف سے الگ سے ₹12 UPI فیس وصول نہیں کی جا سکتی۔لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس اضافی کاروباری لاگت کا معیشت یا قیمتوں پر کوئی ممکنہ اثر ہی نہیں ہوگا۔ کوئی مرچنٹ یہ لاگت خود برداشت کرسکتا ہے، منافع کا مارجن کم کرسکتا ہے یا اپنے مجموعی کاروباری اخراجات کو دوسری قیمتوں میں ایڈجسٹ کرسکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق MDR کے براہِ راست صارف تک پہنچنے پر پابندی ہے، لیکن کاروبار اپنی مجموعی لاگت سے نمٹنے کے مختلف طریقے اختیار کرسکتے ہیں۔

چھوٹے دکانداروں کے لیے بھی مکمل تحفظ نہیں؟:
نئے نظام میں ماہانہ ₹1 لاکھ تک UPI QR کے ذریعے وصول کرنے والے چھوٹے مرچنٹس کو زیرو-MDR فریم ورک میں رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گلی کے چھوٹے دکاندار، معمولی کاروبار اور محدود UPI وصولی والے تاجروں پر یہ بوجھ نسبتاً کم ہوگا۔
لیکن درمیانے اور بڑے کاروبار، اسپتال، تعلیمی ادارے، آن لائن کاروبار، ریٹیل اسٹورز اور وہ سروس فراہم کنندگان جن کی بڑی ادائیگیاں UPI کے ذریعے ہوتی ہیں، ان کے لیے MDR ایک نیا مستقل کاروباری خرچ بن جائے گا۔ Reuters کے مطابق اس تبدیلی سے چھ سال سے جاری UPI کے زیرو-MDR دور کا اختتام ہوگا اور بینکوں و ادائیگی سے متعلق کمپنیوں کے لیے نئی آمدنی کا ذریعہ پیدا ہوگا۔

ادائیگی کمپنیوں کے لیے ہزاروں کروڑ کی نئی آمدنی:
اس تبدیلی کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ جو UPI لین دین اب تک زیرو-MDR نظام کے تحت ہو رہے تھے، ان میں مخصوص بڑے مرچنٹ ٹرانزیکشنز سے اب فیس حاصل ہوگی۔ رپورٹوں  کے مطابق 0.4 فیصد MDR سے پورے ادائیگی کے نظام میں سالانہ تقریباً ₹16,000 کروڑ تک آمدنی پیدا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ رقم بینکوں، ادائیگی فراہم کرنے والوں، ایگریگیٹرز اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان تقسیم ہوگی۔

ضروری خدمات پر ₹5 فلیٹ MDR:
ریلوے، ٹیلی کمیونی کیشن، انشورنس، ایندھن اور بعض دیگر ضروری شعبوں میں ₹2,000 سے زیادہ کی UPI ادائیگی پر 0.4 فیصد کے بجائے ₹5 فی ٹرانزیکشن فلیٹ MDR مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان شعبوں میں ₹3,000 یا ₹50,000 کی ادائیگی پر بھی مخصوص صورتوں میں MDR ₹5 رہے گا۔
یہاں بھی صارف سے براہِ راست ₹5 وصول کرنے کی اجازت نہیں ہونے کا دعویٰ کیاگیا ہے، لیکن سروس فراہم کرنے والوں کے لیے یہ ایک اضافی ادائیگی لاگت ضرور ہوگی۔

دوست یا رشتہ دار کو رقم بھیجنے پر کوئی چارجس نہیں:
حکومت کی طرف سے راحت کی خبر یہ ہے کہ شخص سے شخص رقم بھیجنے والے صارفین کے لیے یہ MDR لاگو نہیں ہوگا۔اگر آپ کسی جاننے والے، دوست یا رشتہ دار کو رقم بھیجنا چاہتے ہوں، چاہے وہ 100 روپے ہوں یا 1 لاکھ روپے، نئے قوانین کے مطابق ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک شخص سے دوسرے شخص کی منتقلی مکمل طور پر مفت ہے۔


Share: