ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حملہ آور داعش سے متاثر تھا: انڈونیشی حکام

حملہ آور داعش سے متاثر تھا: انڈونیشی حکام

Sat, 22 Oct 2016 12:25:06    S.O. News Service

جکارتہ،21؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)جمعرات کے روز ہونے والا یہ حملہ دنیا میں سب سے بڑی مسلم آبادی رکھنے والے ملک انڈونیشیا میں اُن واقعات کی تازہ کڑی ہے جن کا تعلق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے بنتا ہے۔ انڈونیشیا میں داخلی طور پر عسکریت پسندی میں اضافے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔انڈونیشیا پولیس کے ترجمان کے مطابق جمعرات کو ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کے گھر کی تلاشی کے دوران پولیس کو وہاں سے بم بنانے کا سامان، اسلحہ اور ایک تلوار بھی ملی۔ بوائے رافلی امر نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا، اس نے متعدد پائپ بم تیار کیے تھے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اب اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ کس کے ساتھ رابطے میں تھا۔دہشت پسند تنظیم داعش نے آج جمعے کے روز اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ بات اس گروپ کی نیوز ایجنسی عماق کی طرف سے بتائی گئی ہے۔جمعرات 20اکتوبر کو انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے ایک مضافاتی علاقے کے مصروف چوک میں اس حملہ آور نے ایک تیز دھار آلے سے حملہ کر کے تین پولیس اہلکاروں کو زخمی کر دیا تھا۔ اس نے پائپ بم بھی پولیس اہلکاروں پر پھینکے مگر وہ پھٹ نہ سکے۔ پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں یہ 21سالہ شخص زخمی ہو گیا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا۔پولیس کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ سلطان ازیان سیاح نامی یہ حملہ آور انڈونیشیا میں سرگرم ایک عسکریت پسند گروپ جماعت انصار الدولہ کا رکن تھا جو داعش کا حامی گروپ ہے۔

داعش کے حامی مختلف چھوٹے گروپوں کے اتحاد سے تشکیل پانے والے اس گروپ کا سربراہ جیل میں قید شدت پسند مذہبی رہنما امن عبدالرحمان ہے۔ عبدالرحمان ایک عسکری تربیتی کیمپ چلانے میں مدد کے الزام میں نو برس قید کی سزا بھگت رہا ہے۔انڈونیشی حکام کے مطابق ملک میں داعش کے 1200سے زائد پیروکار موجود ہیں جبکہ قریب 400انڈونیشی باشندے داعش میں شمولیت کے لیے شام جا چکے ہیں۔ پولیس ایسے افراد کے حوالے سے الرٹ ہے جو عراقی فورسز کی طرف سے موصل پر حملہ شروع کیے جانے کے بعد واپس انڈونیشیا لوٹ سکتے ہیں۔رواں برس جنوری میں عسکریت پسندوں نے جکارتہ کے مرکز میں فائرنگ اور بم دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ انڈونیشیا میں یہ پہلا حملہ تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔


Share: