نئی دہلی، 11 مئی (ایس او نیوز/ایجنسی): وزیر اعظم نریندر مودی کے حیدرآباد میں دیے گئے کفایت شعاری سے متعلق خطاب کے بعد ملک میں سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں، سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مودی حکومت کے “وشو گرو” اور “مضبوط معیشت” کے دعووں پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران “وشو گرو”، “تیز رفتار ترقی” اور “دنیا کی ابھرتی ہوئی سپر پاور” جیسے نعروں کے ذریعے ملک کی مضبوط معیشت کا تاثر پیش کیا گیا، لیکن انتخابات ختم ہوتے ہی عوام سے کفایت شعاری، کم خرچ کرنے اور غیر ضروری اخراجات سے بچنے کی اپیلیں شروع ہوگئیں۔
حیدرآباد میں اپنے خطاب کے دوران مودی نے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر محدود رکھنے، ایندھن کی بچت کرنے، پبلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ استعمال اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ “ورک فرام ہوم” اپنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے عالمی جنگی حالات، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور بین الاقوامی معاشی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں احتیاط اور کفایت شعاری ضروری ہوسکتی ہے۔
مودی کے اس خطاب کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور حکومت پر تنقید کرنے والے مبصرین نے سوال اٹھایا کہ اگر ہندوستان واقعی ایک مضبوط اور مستحکم معیشت بن چکا ہے تو پھر عوام کو سونا خریدنے، سفر کرنے اور روزمرہ اخراجات کم کرنے کا مشورہ کیوں دیا جارہا ہے؟ کئی سیاسی تبصرہ نگاروں نے اسے “معاشی دباؤ کا غیر اعلانیہ اعتراف” قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر بھی اس بیان کے بعد شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔ ایکس ، اسٹاگرام اور یوٹیوب پر ہزاروں صارفین نے طنزیہ تبصرے کرتے ہوئے لکھا کہ “الیکشن ختم، اب کفایت شعاری شروع”۔ بعض پوسٹس میں کہا گیا کہ انتخابی جلسوں میں ترقی، روزگار اور عالمی قیادت کے دعوے کیے گئے، لیکن انتخابات کے فوراً بعد عوام سے قربانی مانگی جانے لگی۔
کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ اپوزیشن لیڈروں نے کہا کہ حکومت کئی برسوں سے ہندوستان کو “وشو گرو” اور “5 ٹریلین ڈالر اکانومی” بنانے کے دعوے کرتی رہی، مگر اب حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ عوام کو سونا خریدنے تک سے روکنے کی اپیل کی جارہی ہے۔ بعض رہنماؤں نے سوال کیا کہ کیا حکومت کو آنے والے معاشی بحران یا زرمبادلہ کے دباؤ کا اندیشہ ہے؟
بین الاقوامی میڈیا نے بھی مودی کے اس بیان کو غیر معمولی قرار دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مودی کی اپیل کے بعد ہندوستانی جیولری کمپنیوں کے شیئرز میں گراوٹ دیکھی گئی کیونکہ بازار کو خدشہ ہے کہ حکومت سونے کی درآمدات محدود کرنے کے اقدامات کرسکتی ہے۔ بعض عالمی معاشی تجزیہ نگاروں نے اس خطاب کو ہندوستانی معیشت پر بڑھتے دباؤ اور درآمدی اخراجات میں اضافے سے جوڑا۔
معاشی ماہرین کے مطابق ہندوستان دنیا میں سونے اور خام تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہے، اور عالمی سطح پر جاری جنگی حالات کے سبب اگر تیل مزید مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر ہندوستانی معیشت، روپے کی قدر اور مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت عوامی سطح پر کفایت شعاری کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
ادھر حکومت حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے صرف احتیاطی مشورے دیے ہیں اور عالمی حالات کے پیش نظر قوم کو ذمہ داری کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم ناقدین کا اصرار ہے کہ اگر واقعی حالات معمول کے مطابق ہیں تو پھر حکومت کو عوام سے اس نوعیت کی اپیلیں کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مودی کے حالیہ خطاب نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کردیا ہے کہ آیا ہندوستانی معیشت واقعی اتنی مضبوط ہے جتنا انتخابی مہم کے دوران پیش کیا جاتا رہا، یا پھر عالمی بحرانوں کے اثرات اب حکومت کو بھی عوامی سطح پر احتیاطی پیغامات دینے پر مجبور کررہے ہیں۔
ادھر دوسری طرف مودی کے اس خطاب پر معروف صحافی رویش نے بھی طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے حکومت کے مؤقف پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عوام کو پٹرول کی بچت کرنے اور اسے “دیش بھگتی” قرار دینے کا مشورہ دے رہے ہیں، لیکن دوسری جانب خود بڑے پیمانے پر انتخابی ریلیاں اور روڈ شوز کررہے ہیں۔ رویش کمار نے سوال اٹھایا کہ جو نصیحت عوام کو دی جارہی ہے، کیا اس پر حکومت اور اس کے لیڈر خود بھی عمل کررہے ہیں؟ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، “کیا وزیر اعظم کی گاڑی بغیر پٹرول کے چلتی ہے؟”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی ملک معاشی دباؤ اور ایندھن بحران جیسے حالات کا سامنا کررہا ہے تو پھر کفایت شعاری کا آغاز اقتدار کے ایوانوں سے ہونا چاہیے۔ ان کے تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی حکومت کے “بچت” پیغام اور انتخابی مہمات کے اخراجات کو لے کر بھی نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔