ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منریگا: آدھار پر مبنی نظام کے نقصان دہ اثرات، حکومت فوری منسوخی کا اعلان کرے، جئے رام رمیش

منریگا: آدھار پر مبنی نظام کے نقصان دہ اثرات، حکومت فوری منسوخی کا اعلان کرے، جئے رام رمیش

Sun, 27 Oct 2024 10:54:01  SO Admin   S.O. News Service

نئی دہلی، 27/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے آج مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) کے حوالے سے اہم تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آدھار پر مبنی ادائیگی کے نظام کو لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ رمیش نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر فوری روک لگائے اور مزید الزام عائد کیا کہ تقریباً 85 لاکھ رجسٹرڈ مزدوروں کے نام اس اسکیم سے خارج کر دیے گئے ہیں۔

جئے رام رمیش نے اس معاملے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’حکومت کو اے بی پی ایس کے انتظام پر روک لگانی چاہئے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ جنوری 2024 میں دیہی ترقی کی وزارت نے منریگا کے لئے آدھار پر مبنی طریقۂ ادائیگی (اے بی پی ایس) کی ملکی سطح پر نفاذ کو لازم قرار دیا۔ اے بی پی ایس کے اہل ہونے کے لئے مزدوروں کو کئی شرائط کی تکمیل لازمی ہوگی۔ مثال کے طور پر ان کا آداھار کارڈ ان کے جاب کارڈ سے جڑا ہونا ضروری ہے۔ آدھار کارڈ اور جاب کارڈ پر درج نام بالکل مماثل ہونے چاہئیں، ساتھ ہی بینک اکاؤنٹ بھی آدھار سے جڑا ہونا چاہئے، اور نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا کے ساتھ منسلک ہونا چاہئے۔

جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ 10 ماہ بعد اس تباہ کن پالیسی کے اثرات والے ڈیٹا دستیاب ہیں۔ جس کے مطابق لب ٹیک (تعلیمی ماہرین اور مزدوروں کی ایک تنظیم) کے ذریعہ منریگا پورٹل پر موجود عوامی اعداد و شمار پر کیے گئے تجزیہ کے مطابق تمام رجسٹرڈ مزدوروں میں سے 27.4 فیصد (6.7 کروڑ مزدور) اور 24.2 فیصد فعال مزدور (54 لاکھ مزدور) اے بی پی ایس کے لئے نااہل ہیں۔ اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 84.8 لاکھ مزدوروں نے پایا کہ ان کا نام پروگرام سے ہٹا دیا گیا ہے۔

جئے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ اے بی پی ایس سے متعلق مسائل اور ناموں کو اس طرح سے ہٹایا جانا، مجموعی طور پر منریگا کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منریگا میں پیدا ہونے والے پرسنل ڈے (پروگرام کے تحت رجسٹرڈ شخص کی ایک مالی سال میں مکمل کئے گئے کام کے دنوں کی کل تعداد) میں گزشتہ سال سے 16.6 فیصد کی کمی آئی ہے۔

جئے رام رمیش نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’اے بی پی ایس نیشنل موبائل مانیٹرنگ سسٹم (این ایم ایم ایس) کے ساتھ مل کر آتا ہے۔ ان دونوں پالیسیوں کے نتیجے میں طلب پر کام کرنے کے حق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اور منریگا کے تحت ضمانت شدہ اجرت کی وقت پر ادائیگی کے حق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ’بھارت جوڑو نیائے یاترا‘ کے دوران، ملک بھر کے منریگا مزدوروں نے 14 فروری 2024 کو جھارکھنڈ کے گڑھوا ضلع کے رنکا میں منعقد عوامی میٹنگ میں ان مسائل کو اٹھایا۔ آٹھ ماہ گزرنے کے بعد بھی یہ مسائل جوں کے توں ہیں۔‘‘

پوسٹ کے اخیر میں جئے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ یہ حکومت کے ذریعہ بنایا گیا انسانی، معاشی اور ادارہ جاتی المیہ ہے۔ دیہی ترقی کی وزارت کو فوری طور پر اے بی پی ایس اور این ایم ایم ایس کی اس ضد پر روک لگانی چاہئے، ساتھ ہی منریگا کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا جانا چاہئے اور مزدوروں کی یومیہ اجرت میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔


Share: