ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی میں آلودگی کی شدت میں اضافہ، ہوا کا معیار خطرناک حد تک خراب

دہلی میں آلودگی کی شدت میں اضافہ، ہوا کا معیار خطرناک حد تک خراب

Sun, 27 Oct 2024 16:55:19  SO Admin   S.O. News Service

نئی دہلی، 27/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح مسلسل بگڑتی جا رہی ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اتوار کو دہلی میں اے کیو آئی 356 تک پہنچ گیا، جو 'انتہائی خراب' کی کیٹیگری میں آتا ہے۔ دیوالی سے پہلے ہی یہ زہریلی فضا لوگوں کے لیے سانس لینے میں رکاوٹ بن رہی ہے، اور صحت پر بھی منفی اثرات ڈال رہی ہے۔

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے مطابق آنند وِہار میں اے کیو آئی 400 پوائنٹس کو پار کر چکا ہے جو اتوار کو صبح 10 بجے 406 ریکارڈ ہوا۔ اسے 'سنگین' زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے ہفتہ کو یہاں کا اے کیو آئی 367 درج ہوا تھا۔ دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں حالت اور بھی سنگین ہو گئی ہے یہاں اے کیو آئی 420 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آئندہ تین دنوں میں دہلی کی ہوا کا معیار انتہائی خراب زمرے میں رہنے کی بات کہی جا رہی ہے۔

نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق اتوار کو قومی راجدھانی میں ہوا کے معیار میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ اس سے لوگوں میں گھٹن محسوس کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ ہفتہ کو دہلی کا اوسط اے کیو آئی 255 درج کیا گیا تھا جسے 'خراب' زمرے میں مانا جاتا ہے۔ لیکن آج 'انتہائی خراب' زمرے میں شامل ہو گیا ہے۔

دہلی کے علاقوں میں آنند وِہار میں 406، جہاگیر پوری میں 420، علی پور میں 409، آئی ٹی او میں 371، چاندنی چوک میں 321 اور دوارکا میں 351 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا۔ جو کہ دہلی کی فضا میں آلودگی کی سطح کو واضح طور پر ظاہر کر رہا ہے۔

راجدھانی دہلی میں آئے ایک شخص ہمانشو نے کہا کہ بڑھتی آلودگی سے گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ حکومت کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ آلودگی کو کم کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک سائیکل سوار نے بتایا کہ انہیں سانس لینے میں بہت پریشانی ہو رہی ہے۔ اس نے کہا ''ہم دہلی سے ہیں اور ہم (سائیکل سوار گروپ) یہاں روزانہ سائیکل چلاتے ہیں لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے فضائی آلودگی کی حالت کے سبب ہمیں بہت پریشانی ہو رہی ہے۔ ہم ٹھیک سے سانس نہیں لے پا رہے ہیں، آلودگی کے سبب ہم جلدی تھک جاتے ہیں، منھ میں ماسک پہننے کے باوجود کوئی راحت نہیں مل پا رہی ہے۔"


Share: