ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلورو میں نابالغوں کے پب اور بارز میں داخلے پر سخت پابندی، پریانک کھرگے کا ’آئی ڈی نہیں تو داخلہ نہیں‘ کا اعلان

بنگلورو میں نابالغوں کے پب اور بارز میں داخلے پر سخت پابندی، پریانک کھرگے کا ’آئی ڈی نہیں تو داخلہ نہیں‘ کا اعلان

Tue, 09 Jun 2026 18:19:42    S O News

بنگلورو، 9/جون (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر داخلہ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی اور ای-گورننس پریانک کھرگے نے بنگلورو کے تمام پبز، بریوریز، بارز، کلبز، لاؤنجز، ریستورانوں اور شراب فراہم کرنے والے دیگر اداروں میں نابالغوں کے داخلے اور انہیں شراب کی فراہمی پر سختی سے پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سلسلے میں سینئر پولیس افسران کو متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرنے اور سخت نگرانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ شہر میں نوجوانوں اور نوعمروں میں شراب اور تمباکو کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ حال ہی میں بنگلورو کے چار بڑے تعلیمی اداروں کے 4,093 طلبہ پر کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر کا تقریباً ہر تیسرا نوعمر شراب یا تمباکو کے استعمال کے باعث صحت کے سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق سینٹ جانس میڈیکل کالج، کرسٹ یونیورسٹی اور کستوریبا میڈیکل کالج، منی پال کے محققین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل نوجوانوں میں سے 33 فیصد شراب جبکہ 18 فیصد تمباکو استعمال کرتے ہیں، جو قومی اور ریاستی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بنگلورو میں نوعمروں کے شراب نوشی شروع کرنے کی اوسط عمر 17 سال ہے، جبکہ بعض معاملات میں بچوں کے صرف 8 سال کی عمر میں شراب نوشی شروع کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے کہا کہ نابالغوں میں شراب نوشی کو محض لائسنس کی خلاف ورزی نہیں بلکہ نوجوان نسل کی سلامتی اور عوامی صحت سے جڑا ایک سنگین مسئلہ سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں میں عمر کی جانچ کے سخت ضوابط نافذ کرنے کی ہدایت دی۔

آئی ڈی نہیں تو داخلہ نہیں: کسی بھی شخص کو عمر کے سرکاری ثبوت (شناختی کارڈ) کے بغیر پب، بار، کلب، بریوری یا شراب فراہم کرنے والے کسی بھی ادارے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

2. عمر کی لازمی تصدیق: اداروں کو داخلے سے قبل یا شراب فراہم کرنے سے پہلے سرکاری شناختی دستاویزات کی جانچ کے ذریعے عمر کی تصدیق کرنا لازمی ہوگا۔

نابالغوں کو شراب فراہم کرنے یا انہیں شراب نوشی کی ترغیب دینے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔

کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ادارے کے مالک، منیجر، لائسنس ہولڈر اور پروگرام کے منتظمین کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیا جائے۔

داخلی دروازوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو فعال رکھنا اور مقررہ مدت تک ریکارڈ محفوظ رکھنا لازمی ہوگا تاکہ ضرورت پڑنے پر تحقیقات میں استعمال کیا جا سکے۔

پولیس، تعلیمی ادارے، والدین، رہائشی فلاحی انجمنیں (RWA) اور شہری تنظیمیں مل کر نابالغوں کو شراب، تمباکو اور منشیات سے محفوظ رکھنے کے لیے کام کریں گی۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ کرناٹک حکومت نابالغوں میں شراب نوشی کی حوصلہ افزائی کرنے والے اداروں کے خلاف کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتے گی اور اس معاملے میں "زیرو ٹالرنس پالیسی" اپنائی جائے گی۔

پریانک کھرگے نے مزید کہا کہ "ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو شراب اور منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنا ہے۔ تجارتی ادارے صرف منافع کے لیے نوجوان نسل کے مستقبل کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ ہمارا اصول بالکل واضح ہے: 'آئی ڈی نہیں تو داخلہ نہیں'۔ نابالغوں کو شراب فراہم کرنے والے کسی بھی ادارے کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔"

انہوں نے والدین، اساتذہ، شہریوں اور تجارتی اداروں کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے پولیس اور حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔


Share: