بنگلورو ، 23/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاستی وزیر صحت دنیش گنڈو راؤ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ ایبولا وائرس کے حوالے سے گھبرانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اپنائیں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
بنگلورو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمۂ صحت کے افسران مرکزی حکومت کے متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ہندوستان میں ایبولا کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی پڑوسی ممالک میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم حکومت نے احتیاطی اقدامات پہلے ہی شروع کر دیے ہیں۔
وزیر صحت نے بتایا کہ افریقی ممالک خصوصاً یوگنڈا اور کانگو سے آنے والے افراد پر 21 دن تک نگرانی رکھی جائے گی۔ اگر کسی شخص میں بیماری کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر محکمۂ صحت کو اطلاع دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے عوام سے سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے پھیلائی جانے والی افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی۔
اس موقع پر دنیش گنڈو راؤ نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں ملک آنے والے دنوں میں سنگین معاشی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری غیر ضروری جنگوں کے باعث موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے، لیکن مرکزی حکومت نے ابتدا سے ہی واضح اور مؤثر موقف اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتیں کم تھیں تب بھی عوام کو راحت نہیں دی گئی، جبکہ اب قیمتیں بڑھنے کے باوجود ٹیکس میں کمی کرنے کے بجائے مسلسل ایندھن مہنگا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور حکومت میں خام تیل کی قیمت فی بیرل 120 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، اس کے باوجود عوام کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ اس وقت حکومت نے مناسب اقدامات کیے تھے۔
نیٹ امتحان کے تعلق سے وزیر صحت نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت اجازت دے تو کرناٹک حکومت ریاستی سطح پر نیٹ امتحان کامیابی کے ساتھ منعقد کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر سال نیٹ امتحان میں کسی نہ کسی قسم کی بے ضابطگی یا خامی سامنے آتی ہے جس سے طلبہ اور ان کے والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ کئی طلبہ نے مایوسی کے عالم میں خودکشی جیسے انتہائی اقدامات بھی کیے، لیکن ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں۔
دنیش گنڈو راؤ کا کہنا ہے کہ جس طرح کرناٹک میں سی ای ٹی امتحانات شفافیت اور بہتر انتظام کے ساتھ منعقد کیے جا رہے ہیں، اسی ماڈل پر نیٹ امتحان کا انعقاد بھی ریاست مؤثر طریقے سے کر سکتی ہے۔