بنگلورو ، 22/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) بنگلورو کے پیالیس گراؤنڈ میں آج منعقدہ کانگریس کے ’’سنکلپ سماویش‘‘ میں سینئر رہنما بی کے ہری پرساد نے باقاعدہ طور پر کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر کی ذمہ داری سنبھال لی۔ اس موقع پر کانگریس کے قومی اور ریاستی قائدین، وزراء، ارکانِ اسمبلی، پارٹی عہدیداران اور بڑی تعداد میں کارکنان شریک ہوئے۔
اپنے خطاب میں نو نامزد صدر بی کے ہری پرساد نے پارٹی قیادت کی جانب سے اپنے اوپر اعتماد ظاہر کرنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عہدہ ان کے لیے اختیار نہیں بلکہ عوام اور پارٹی کی خدمت کا ایک مقدس موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے نظریات کو مزید مضبوط بنانے، تنظیم کو مستحکم کرنے اور عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے وہ تمام کارکنوں کے تعاون سے مسلسل کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کا بنیادی اصول ملک کے آئین، سیکولر اقدار اور سماجی انصاف کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق ملک میں مذہب کی بنیاد پر سیاست کے بجائے تمام طبقات کو مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
بی کے ہری پرساد نے اپنے خطاب میں سماجی ہم آہنگی، آئین کے تحفظ اور محروم طبقات کے حقوق کی بات کرتے ہوئے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ سماجی انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ملک کے جمہوری اور آئینی اصولوں کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہیے۔
انہوں نے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بعض پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک میں مذہب کی بنیاد پر سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بیروزگاری، مہنگائی اور انتخابی نظام سے متعلق بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر مَلّیکار جن کھرگے نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس ایک منظم جماعت ہے جہاں شخصیت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ پارٹی اور اس کے نظریات کو فوقیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی کے ہری پرساد ایک تجربہ کار اور نظریاتی رہنما ہیں جنہوں نے پارٹی کے نچلی سطح کے کارکن کی حیثیت سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور کئی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کے مطابق ہری پرساد کی قیادت میں کانگریس آئندہ انتخابات کے لیے مزید مضبوطی سے تیار ہوگی۔
کھرگے نے مرکزی حکومت پر مہنگائی، بیروزگاری اور اقتصادی مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ان مسائل کے خلاف عوامی سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے اپنے خطاب میں مرکزی حکومت کو مختلف معاشی اور سیاسی معاملات پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک کو مالیاتی کمیشن اور مختلف منصوبوں کے تحت ملنے والی رقوم میں حق کے مطابق حصہ نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے ذریعے سماج کے آخری فرد تک انصاف پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے بی کے ہری پرساد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نظریاتی اور باصلاحیت رہنما ہیں جنہوں نے تقریباً پانچ دہائیوں تک پارٹی کی مختلف سطحوں پر خدمات انجام دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں اور پانچ گارنٹی اسکیموں کو عملی جامہ پہنایا ہے اور ان اسکیموں پر گزشتہ چند برسوں میں ایک لاکھ چالیس ہزار کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے ہیں۔
سدارامیا نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں کانگریس کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین، سیکولر اقدار اور پارٹی کے بنیادی نظریات کو عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے بی کے ہری پرساد کی قیادت میں پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ اور سابق کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار، مختلف ریاستوں کے کانگریس قائدین، وزراء، سابق وزرائے اعلیٰ، ارکانِ پارلیمان، ارکانِ اسمبلی اور ہزاروں کارکنان موجود تھے۔
کانگریس قائدین نے اس اجتماع کو پارٹی کے اتحاد اور آئندہ سیاسی حکمت عملی کے لیے اہم قرار دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں پر تنقید اور کانگریس کے نظریات کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
سنکلپ سماویش میں موجود تمام قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ کانگریس پارٹی 2028 کے اسمبلی انتخابات اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کرے گی۔
رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی آئین، سماجی انصاف، جمہوری اقدار اور عوامی فلاح کے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے متحد ہوکر عوام کے درمیان جائے گی اور کرناٹک سمیت ملک بھر میں کانگریس کو مزید مضبوط بنائے گی۔
ریاستی وزیرِ اعلیٰ اور سبکدوش ہونے والے کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کے ہر پنچایت اور ہر وارڈ کی سطح پر پانچ رکنی گارنٹی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جو گارنٹی اسکیموں کے مستحقین اور ان کے ریکارڈ کا ازسرِ نو جائزہ لیں گی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کانگریس حکومت کی پانچوں گارنٹی اسکیمیں کسی بھی صورت میں بند نہیں کی جائیں گی۔
وہ آج پیالیس گراؤنڈ میں منعقدہ "سنکلپ سماویش" سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت کا عہدہ بی کے ہری پرساد کے سپرد کیا۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران پارٹی کے عہدیداروں، ارکانِ اسمبلی اور کارکنوں نے دن رات محنت کرکے کانگریس کو مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر پنچایت اور وارڈ میں گارنٹی کمیٹیاں قائم کرکے ہزاروں نئے قائدین تیار کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ "ایک حقیقی رہنما وہی ہے جو اپنے پیچھے چلنے والوں کی بجائے نئے قائدین کو تیار کرے، اور کانگریس پارٹی اسی نظریے پر یقین رکھتی ہے۔"
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اگرچہ وہ ریاست کے وزیرِ اعلیٰ ہیں، تاہم آئندہ بھی ایک عام کارکن کی حیثیت سے پارٹی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 2028 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو دوبارہ اقتدار میں لانا اور 2029 میں راہل گاندھی کو ملک کا وزیرِ اعظم بنانا پارٹی کا اجتماعی عزم ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ راہل گاندھی کی رہنمائی میں ریاستی کابینہ جلد ہی کالجوں میں طلبہ یونین انتخابات کرانے کا فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پنچایت سے پارلیمنٹ تک نئی قیادت تیار کرنا کانگریس کا مقصد ہے اور اسی سال سے طلبہ انتخابات کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے خواتین کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دینے اور یوتھ ونگ اور خواتین ونگ کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
ڈی کے شیوکمار نے اپنی چھ سالہ صدارت کے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مارچ 2020 میں کورونا وبا کے انتہائی مشکل دور میں کے پی سی سی کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکنوں نے کورونا کے دوران لاکھوں غذائی کٹس تقسیم کیں، کسانوں سے پیداوار خرید کر غریبوں میں مفت تقسیم کی اور مہاجر مزدوروں کے لیے مفت بسوں کے انتظام کا مطالبہ کرکے ایک مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں اور مختلف طبقات کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی، جبکہ بی جے پی حکومت کی مبینہ بدعنوانیوں اور پالیسیوں کے خلاف بھی احتجاج کیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "ہم نے عوام سے پانچ گارنٹیوں کا وعدہ کیا تھا اور انہیں کوئی بھی بند نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ زمین سے متعلق 'بھومی گارنٹی' بھی دی گئی ہے، جس کے تحت عوام کی جائیدادوں کے ریکارڈ درست کیے جا رہے ہیں۔"
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے طلبہ کے لیے مفت بس سفر، نوجوانوں کے لیے روزگار پروگرام، بھارت جوڑو یوتھ تنظیم، او سی اور سی سی مسائل کے حل، بی کھاتہ سے اے کھاتہ میں تبدیلی اور بنگلورو کے وارڈوں میں سڑکوں کی تعمیر جیسے کئی فیصلے کیے ہیں۔
ڈی کے شیوکمار نے خصوصی ووٹر لسٹ نظرثانی (SIR) کے حوالے سے کارکنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو اپنے ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے ضروری دستاویزات کے ساتھ اندراجی عمل مکمل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ "اگر ووٹ کا حق محفوظ نہیں رہے گا تو عوام کئی سرکاری سہولتوں سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہر کارکن کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں میں بیداری پیدا کرے اور ان کے ووٹنگ کے حق کی حفاظت کو یقینی بنائے۔"
تقریب کے دوران جب بعض کارکنوں نے ڈی کے شیوکمار کے حق میں نعرے بازی کی تو انہوں نے فوراً انہیں روک دیا اور کہا کہ کانگریس میں شخصی پرستش کی کوئی جگہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ "پارٹی میں نظم و ضبط سب سے اہم ہے۔ شخصیت کی نہیں بلکہ پارٹی کی عظمت کا احترام کیا جانا چاہیے۔"
وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ کانگریس دفتر ان کے لیے ایک "مندر" کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں "گاندھی بھارت" کے نام سے کانگریس کے مستقل دفاتر قائم کیے جائیں، تاکہ پارٹی کی نظریاتی اور تنظیمی بنیادیں مزید مضبوط ہوں۔