ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / نیشنل ہیرالڈ معاملے میں ثبوت نہیں، رام مندر چندہ الزامات کی جانچ ہو: بی۔ کے۔ ہری پرساد

نیشنل ہیرالڈ معاملے میں ثبوت نہیں، رام مندر چندہ الزامات کی جانچ ہو: بی۔ کے۔ ہری پرساد

Sat, 11 Jul 2026 12:35:27    S O News

بنگلورو، 11/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی۔ کے۔ ہری پرساد نے بی جے پی اور اس کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ہیرالڈ مقدمہ گزشتہ 10 برس سے زیرِ سماعت ہے، مگر اب تک کانگریس قیادت کے خلاف کسی مالی بے ضابطگی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ہیرالڈ ایک کمپنی قانون کے تحت رجسٹرڈ ادارہ ہے، جس کے اثاثوں یا فنڈز کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

جمعہ کو بنگلورو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس قیادت پر الزام لگانے والے پہلے اپنے رہنماؤں کے خلاف موجود بدعنوانی اور دیگر مقدمات پر جواب دیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایودھیا رام مندر کے چندہ سے متعلق سامنے آنے والے الزامات نہایت سنگین ہیں اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا کہ رام مندر کے لیے دیا گیا چندہ عوام کی عقیدت کا سرمایہ ہے، کسی سیاسی جماعت یا تنظیم کی ملکیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مندر سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کے الزامات درست ہیں تو اس کی ذمہ داری متعلقہ ٹرسٹ اور انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے اس معاملے کی مرکزی تفتیشی ادارے کے ذریعے جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر ٹرسٹ کے قیام، سنگ بنیاد اور افتتاحی تقریب میں مرکزی قیادت نے نمایاں کردار ادا کیا تھا، اس لیے عوام کے چندے سے متعلق کسی بھی بے ضابطگی پر خاموشی مناسب نہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا کہ اگر کرناٹک سے متعلق کسی بھی فرد کا نام اس معاملے میں سامنے آیا ہے تو اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذہب کے نام پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا انتہائی افسوسناک ہے۔

آر۔ ایس۔ ایس کے اجلاس سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اجلاس کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی اس پر تبصرہ کرنا مناسب ہوگا۔

گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے انتخابات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی انتخاب کے لیے پوری طرح تیار ہے اور منشور سمیت تمام تیاریاں مکمل ہیں، تاہم خصوصی ووٹر نظرِ ثانی کے عمل میں عملے کی کمی کے باعث تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں حکومت نے عدالت سے رجوع کیا ہے تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق انتخابی عمل مکمل کیا جا سکے۔

مستقل رہائشی تصدیقی سرٹیفکیٹ کے بارے میں اپوزیشن کے اعتراضات پر انہوں نے کہا کہ اگر غیر قانونی دراندازی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری سرحدی سلامتی کے ذمہ دار اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ کرناٹک کی سرحد بنگلہ دیش سے متصل نہیں، اس لیے اس مسئلے کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں۔

کابینہ میں توسیع سے متعلق سوال پر بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا کہ حکومت اور پارٹی دونوں کے دائرۂ کار الگ ہیں۔ پارٹی اپنی تنظیمی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے جبکہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے، اور دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔


Share: