بھٹکل، 23 ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور بھٹکل کے رکن اسمبلی منکل ویدیا نے کہا کہ اُترا کنڑا کے عوام نے ضلع میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ کستوری رنگن رپورٹ کی سفارشات کے معاملے میں اُترا کنڑا کے عوام کے مفادات کا تحفظ کرے۔ 22 ستمبر کو کرناٹک قانون ساز اسمبلی میں اس معاملے پر ہونے والی بحث کے دوران منکل ایس ویدیا نے اُترا کنڑا کے عوام کی مشکلات کو انتہائی جذباتی انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضلع کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو لوگوں کو پڑوسی ریاست ’’گوا‘‘ منتقل ہونا پڑے گا۔
منکل ویدیا نے حکومت سے سوال کیا کہ ایک طرف جنگلاتی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کو حقِ ملکیت دینے کی کارروائی جاری ہے، جبکہ دوسری طرف کستوری رنگن رپورٹ کے تحت انہی علاقوں میں مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، تو ایسی صورت میں ان خاندانوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
منکل ویدیا نے کہا کہ اُترا کنڑا ضلع کا تقریباً 82 فیصد علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے، جبکہ صرف تقریباً 12 فیصد زمین محکمہ ریونیو کے تحت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگلاتی زمین پر رہنے والے تقریباً 85 ہزار خاندانوں کو حقِ ملکیت فراہم کرنے کے لیے مرکز اور ریاستی حکومت کی جانب سے جی پی ایس سروے سمیت مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں کستوری رنگن رپورٹ کو موجودہ شکل میں نافذ کرنا کس طرح ممکن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ جنگلات اور ماحولیات کے تحفظ کے مخالف نہیں ہیں، تاہم کستوری رنگن رپورٹ کو موجودہ شکل میں نافذ کرنے سے مقامی لوگوں کی زندگی، زراعت، روزگار اور ترقیاتی سرگرمیوں پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اُترا کنڑا کے عوام نے ملک کی ترقی کے لیے پہلے ہی بڑی قربانیاں دی ہیں۔
منکل ویدیا نے بتایا کہ ضلع میں تقریباً 144 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہے، جہاں ساحلی ضوابط کے باعث سمندر کے قریب بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرگرمیوں پر پابندیاں ہیں۔ دریاؤں کے کنارے بھی حفاظتی زون موجود ہیں، جبکہ کونکن ریلوے اور قومی شاہراہوں کے گزرنے والے علاقوں میں بھی زمین کے استعمال سے متعلق مختلف پابندیاں عائد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اُترا کنڑا نے ملک کے اہم منصوبوں کے لیے بھی بڑی مقدار میں زمین فراہم کی ہے۔ سی برڈ بحری اڈے کے لیے تقریباً 21 ہزار ایکڑ، کائگا نیوکلیئر پاور اسٹیشن کے لیے تقریباً ایک ہزار ایکڑ اور پانچ ہائیڈل منصوبوں کے ساتھ کونکن ریلوے اور نیشنل ہائی وے کے لیے بھی ضلع کے لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع میں قائم منصوبوں سے پورا ملک فائدہ اٹھا رہا ہے، لیکن ضلع کے لوگوں کو مسلسل اپنی زمین اور ترقی کے مواقع کی قربانی دینی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کستوری رنگن سفارشات موجودہ شکل میں نافذ ہونے کی صورت میں بھٹکل، ہوناور اور سرسی جیسے علاقوں میں 85 ہزار سے زائد خاندان متاثر یا بے گھر ہونے کے امکانات ہیں۔
منکل ویدیا نے پوچھا کہ اگر ضلع کے 626 دیہات کو 10 کلومیٹر کے بفر زون کے دائرے میں لایا گیا تو یہاں کے لوگ کہاں جائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ مغربی گھاٹ کے جنگلات کو محفوظ رکھنے میں مقامی لوگوں کا بھی اہم کردار ہے اور صدیوں سے یہاں رہنے والے کسان اور دیہی آبادی جنگلات کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر زندگی گزارتی آئی ہے۔
بحث کے دوران بی جے پی رکن اسمبلی ایس سریش کمار نے تجویز پیش کی کہ مغربی گھاٹ سے متاثرہ تمام چھ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کا اجلاس منعقد کرکے اس معاملے پر مشترکہ موقف اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی گھاٹ اور ملناڈ علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی کے باعث کئی مکانات اب بزرگوں کے گھروں تک محدود ہوگئے ہیں، اس لیے مقامی لوگوں کے روزگار اور معاش کے تحفظ پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
بتاتے چلیں کہ منگل 23 ستمبر کی تازہ پیش رفت کے مطابق کرناٹک اسمبلی نے کستوری رنگن رپورٹ کو موجودہ شکل میں مسترد کرتے ہوئے اس پر نظرثانی اور مغربی گھاٹ کے علاقوں کا زمینی سروے کرانے کی قرارداد بھی منظور کی ہے۔