ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد نئی صف بندیاں؛ اہم عہدوں پر تبدیلیوں کی چہ مگوئیاں تیز

کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد نئی صف بندیاں؛ اہم عہدوں پر تبدیلیوں کی چہ مگوئیاں تیز

Sat, 30 May 2026 16:48:24    S O News
کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد نئی صف بندیاں؛ اہم عہدوں پر تبدیلیوں کی چہ مگوئیاں تیز

بھٹکل 30 مئی (ایس او نیوز): کرناٹک میں وزیراعلیٰ سدارامیا کے استعفے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کو لے کر کانگریس کے اندر سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس میں ڈی کے شیوکمار کو نیا لیڈر منتخب کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ کابینہ، اسپیکر شپ، نائب وزیراعلیٰ کے عہدوں اور پارٹی تنظیم میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان اس بار کابینہ کی تشکیل میں علاقائی اور سماجی توازن کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ لنگایت، ووکلیگا، دلت، او بی سی، اقلیتی اور ساحلی کرناٹک کی نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف فارمولوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے دہلی اور بنگلورو کے درمیان مسلسل مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر رہنما آر وی دیشپانڈے کے نام پر اسمبلی اسپیکر کے عہدے کے لیے غور کیے جانے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ اگر یہ فارمولا طے پاتا ہے تو موجودہ اسپیکر یو ٹی قادر کو دوبارہ کابینہ میں شامل کیے جانے کے امکانات پر بھی سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اقلیتی نمائندگی کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں اہم وزارت دی جا سکتی ہے، تاہم اس بارے میں کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

وزیر برائے ہاؤسنگ و اقلیتی بہبود ضمیر احمد خان کو نئی حکومت میں بھی اہم کردار ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ کانگریس کے مسلم چہروں میں ان کا شمار بااثر رہنماؤں میں ہوتا ہے اور سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ شہری ترقیات، ہاؤسنگ، اقلیتی بہبود یا انفراسٹرکچر سے متعلق کسی اہم محکمہ کی ذمہ داری انہیں دوبارہ دی جا سکتی ہے۔ تاہم کابینہ کی حتمی فہرست جاری ہونے تک صورتحال غیر یقینی رہے گی۔

کانگریس کے سینئر رہنما اور قانون ساز کونسل کے رکن بی کے ہری پرساد اور سابق سیاسی سکریٹری نصیر احمد کے نام بھی پارٹی کے اندرونی مشاورتی حلقوں میں زیر بحث بتائے جا رہے ہیں۔  

لنگایت طبقے کی نمائندگی کے سوال پر وزیرِ تعمیرات ایم بی پاٹل، وزیرِ جنگلات ایشور کھنڈرے اور پبلک ورکس کے سینئر رہنما ستیش جارکی ہولی کے نام مسلسل زیر گردش ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹس میں ستیش جارکی ہولی کو نائب وزیراعلیٰ یا پارٹی تنظیم میں بڑی ذمہ داری دیے جانے کے امکانات کا ذکر کیا جا رہا ہے، جبکہ ایم بی پاٹل کو بھی طاقتور وزارت یا ڈپٹی سی ایم فارمولے میں شامل کیے جانے کی قیاس آرائیاں موجود ہیں۔

خواتین کی نمائندگی کے معاملے میں وزیرِ خواتین و اطفال لکشمی ہیبالکر کا نام بھی خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ کنڑا میڈیا حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ انہیں نئی حکومت میں مزید بااثر محکمہ دیا جا سکتا ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ شمالی کرناٹک اور خواتین ووٹ بینک کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کابینہ میں مزید مضبوط حیثیت دی جا سکتی ہے، اگرچہ اس بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اشارہ سامنے نہیں آیا۔

اسی دوران سدارامیا کے قریبی رہنماؤں اور حامی وزراء کو بھی نئی حکومت میں مناسب نمائندگی دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس ہائی کمان اقتدار کی منتقلی کے باوجود سدارامیا گروپ کو کمزور دکھانے سے گریز کرنا چاہتی ہے تاکہ حکومت اور پارٹی کے اندر توازن برقرار رہے۔

ادھر ریاست بھر میں کانگریس کارکنوں اور سیاسی مبصرین کی نظریں نئی کابینہ کی حتمی فہرست پر مرکوز ہیں۔ وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ، اسپیکر، کابینہ کے اہم قلمدانوں اور کے پی سی سی کی قیادت کے حوالے سے آئندہ ایک دو دنوں میں بڑے فیصلے سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے بعد تمام جاری قیاس آرائیوں کی حقیقی تصویر واضح ہو سکے گی۔


Share: