بنگلورو ، 17/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی ) ریاست کرناٹک میں مسلمانوں کو درپیش مسائل، کانگریس حکومت کی تین سالہ کارکردگی اور مسلم برادری سے کیے گئے وعدوں کے جائزے کے لیے بنگلورو کے ٹاؤن ہال میں ’’کرناٹک مسلم کنونشن‘‘ منعقد کیا گیا، جس میں ریاست بھر سے سماجی کارکنان، دانشوروں، تنظیمی نمائندوں اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
’’کانگریس حکومت نے کیا وعدے کیے؟ کیا عمل ہوا؟ اور آگے کیا؟‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس کنونشن میں حکومت کی کارکردگی، مسلم مسائل اور مختلف مطالبات پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی گئی۔ منتظمین کے مطابق ریاست کی 48 تنظیموں کے نمائندے اس پروگرام میں شریک ہوئے۔
کنونشن کے مشترکہ کنوینر تنویر احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع عوامی بیداری اور شعور کا مظہرہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بغیر کسی خصوصی دعوت یا انتظام کے خود شریک ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ برادری اپنے مسائل کے تعلق سے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پروگرام سے قبل مختلف رکاوٹیں اور دباؤ سامنے آئے، یہاں تک کہ کنونشن کو منسوخ کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں، مگر منتظمین نے ثابت قدمی کے ساتھ پروگرام منعقد کیا۔
مشترکہ کنوینر حارث صدیقی نے الزام لگایا کہ کنونشن سے قبل سوشل میڈیا پر جعلی پوسٹرس اور پیغامات کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پروگرام ملتوی یا منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ریاست کے تقریباً تمام اضلاع سے لوگ اپنے خرچ پر شریک ہوئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کنونشن کسی سیاسی جماعت، مسلم وزیر یا رکن اسمبلی کی حمایت یا مخالفت کے لیے منعقد نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اس کا مقصد صرف مسلم برادری کے مسائل پر سنجیدہ گفتگو اور مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ ان کے مطابق منتظمین نے جان بوجھ کر سیاست دانوں اور سرکردہ فلمی شخصیات کو مدعو نہیں کیا تاکہ پروگرام سیاسی تقسیم سے محفوظ رہے اور توجہ صرف کمیونٹی کے مسائل پر مرکوز رکھی جا سکے۔
کنونشن کے دوران 100 صفحات پر مشتمل ایک جامع رپورٹ بھی جاری کی گئی۔ مشترکہ کنوینر سہیل مرور نے بتایا کہ یہ رپورٹ مختلف ماہرین، سماجی شخصیات اور عوامی مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے، جس میں تعلیم، ریزرویشن، وقف، گاؤ کشی سے متعلق قوانین اور دیگر اہم مسائل پر مشتمل 10 نکاتی ایجنڈا شامل ہے۔ رپورٹ اردو، کنڑا اور انگریزی زبانوں میں شائع کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد برادری میں جوابدہی کا احساس پیدا کرنا اور مقامی سطح پر عوامی نمائندوں کے سامنے مسائل کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے۔ انہوں نے حجاب تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی عوامی دباؤ ہی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔
کنونشن سے مختلف سماجی کارکنان، علما اور دانشوروں نے خطاب کیا، جن میں یاسین ملپے، شیواسندر، جلیل نداف، مولانا عتیق الرحمن، ایڈوکیٹ مظفر، کے اے اشرف، رفیع الدین کدرولی، معراج الدین پٹیل اور عنایت اللہ شاہ بندری شامل تھے۔