ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک ہائی کورٹ: ریپ کیس میں ضمانت سے انکار کے دوران جج کے تبصرے پر قانونی حلقوں میں تشویش

کرناٹک ہائی کورٹ: ریپ کیس میں ضمانت سے انکار کے دوران جج کے تبصرے پر قانونی حلقوں میں تشویش

Tue, 02 Jun 2026 17:44:42    S O News
کرناٹک ہائی کورٹ: ریپ کیس میں ضمانت سے انکار کے دوران جج کے تبصرے پر قانونی حلقوں میں تشویش

بنگلورو، 2 /جون (ایس او نیوز ): کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک ریپ مقدمے کی سماعت کے دوران جج کی جانب سے دیے گئے سخت ریمارکس نے قانونی حلقوں، وکلاء اور آئینی ماہرین کے درمیان بحث چھیڑ دی ہے۔ عدالت نے  ایم آئی ٹی منی پال کے  ایک 23 سالہ انجینئرنگ طالب علم  گوپی ریڈی کارتھک ریڈی، جو گزشتہ 5 اپریل سے عدالتی حراست میں ہے، کو فوری ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے جرم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش ظاہر کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، جسٹس آر نٹراج نے سماعت کے دوران زبانی طور پر کہا کہ "قانون اپنے دانت کھو چکا ہے" اور اسی وجہ سے جرائم کا ارتکاب لوگوں کے لیے آسان ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی ریمارک دیا کہ اگر مجرموں کے خلاف سخت سزائیں، جیسے جسمانی اعضا کاٹنے جیسی سزائیں دی جائیں، تو لوگ قانون کی پابندی کرنے لگیں گے۔ انہوں نے بعض مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں دی جانے والی سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’قانون اپنی طاقت کھو چکا ہے کیونکہ ہم مجرموں کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آتے۔ اسی لئے جرم کرنا اتنا آسان ہو گیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایسا نہیں۔ اگر ہاتھ یا پاؤں کاٹ دیئے جائیں تو شاید لوگ قانون کی پابندی کرنا سیکھیں۔ چونکہ ہمارے پاس جمہوریت ہے، اس لئےہر شخص اسے معمولی سمجھنے لگا ہے۔ ‘‘

عدالت نے ملزم کو فوری طور پر رہا کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا:’’اگر نمک کھایا ہے تو پانی بھی پینا ہوگا۔ اسے مزید چار پانچ دن جیل میں رہنے دیں، تاکہ اسے جیل کی عادت ہو جائے۔ کون جانتا ہے، اگر سزا ہو گئی تو شاید دوبارہ واپس آنا پڑے۔ ‘‘عدالت نے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت8؍ جون کو مقرر کی۔

استغاثہ کے مطابق شکایت کنندہ خاتون اور ملزم منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ہم جماعت تھے۔ خاتون کا الزام ہے کہ12؍ ستمبر2023ء کو ملزم نے تعلقات پر بات چیت کے بہانے اسے اپنے فلیٹ پر بلایا اور وہاں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ خاتون نے مزید کہا کہ اس واقعے کے باعث وہ شدید ذہنی صدمے اور ڈپریشن کا شکار ہوئیں، جس کا علاج بھی کروانا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے قومی کمیشن برائے خواتین سے رجوع کیا اور پولیس میں شکایت درج کرائی۔

یہ مقدمہ اُڈپی ویمن پولیس اسٹیشن میں تعزیراتِ ہند کی دفعات375(اے) اور376؍ کے تحت درج کیا گیا۔ معاملے کو لے کر ملزم نے الزامات کی تردید کی ہے۔ اس کے وکیل کا مؤقف ہے کہ شکایت ایک ایسے واقعے سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر تقریباً تین سال قبل پیش آیا تھا اور مسلسل حراست اس کے مستقبل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

عدالت کا  تبصرہ  سامنے آنے کے بعد قانونی  ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا آئین، بنیادی حقوق اور انسانی وقار کے اصول جسمانی سزاؤں یا اعضا کاٹنے جیسی سزاؤں کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کے مطابق عدالتوں کا کردار آئین اور مروجہ قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے انصاف فراہم کرنا ہے، اس لیے ایسے تبصرے عوامی بحث اور تنقید کا سبب بن سکتے ہیں۔

قانونی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جج کے ریمارکس عدالتی حکم کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی قانونی حیثیت ہے، لیکن ایسے بیانات عدلیہ کے رویے اور فوجداری نظامِ انصاف پر وسیع تر بحث کو جنم دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے سخت قوانین کے ساتھ ساتھ مؤثر تفتیش، فوری سماعت اور یقینی سزا زیادہ اہم عوامل ہیں۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں خواتین کے خلاف جرائم اور جنسی تشدد کے مقدمات پر عدالتی حساسیت، متاثرین کے حقوق اور فوجداری انصاف کے نظام پر مسلسل بحث جاری ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے بھی ریپ متاثرہ خواتین کو بار بار عدالتوں میں طلب کرنے کے عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متاثرہ فریق کے وقار اور ذہنی صحت کے تحفظ پر زور دیا تھا۔

قانونی حلقوں میں اب یہ بحث جاری ہے کہ کیا جرائم کے خلاف عوامی غصے اور سخت سزا کے مطالبات کے باوجود آئینی حدود اور انسانی حقوق کے اصولوں کو برقرار رکھنا ہی جمہوری نظامِ انصاف کی بنیادی شرط ہے۔

واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بعض اسلامی  ممالک میں سنگین جرائم کے لیے سخت سزاؤں کا نظام موجود ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کے درمیان اس حوالے سے طویل عرصے سے اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے جج کے حالیہ ریمارکس کے بعد جرائم کی روک تھام، سزا کی نوعیت اور آئینی حدود کے موضوع پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اسلامی ممالک کی طرح  سخت سزاؤں کے حق میں آراء کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایسے اقدامات جرائم کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ دیگر صارفین نے آئینی اور انسانی حقوق کے تناظر میں اس نقطۂ نظر سے اختلاف بھی کیا ہے۔


Share: