ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کانگریس کی اہم قراردادیں، رام مندر معاملے کی تحقیقات، 10 ہزار کروڑ کے پیکیج اور پردھان کے استعفے کا مطالبہ

کرناٹک کانگریس کی اہم قراردادیں، رام مندر معاملے کی تحقیقات، 10 ہزار کروڑ کے پیکیج اور پردھان کے استعفے کا مطالبہ

Wed, 08 Jul 2026 12:12:45    S O News
کرناٹک کانگریس کی اہم قراردادیں، رام مندر معاملے کی تحقیقات، 10 ہزار کروڑ کے پیکیج اور پردھان کے استعفے کا مطالبہ

بنگلورو، 8 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کی کل رکنی نشست میں پانچ اہم قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں رام مندر سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی مرکزی تفتیشی ادارے کے ذریعے جانچ، کرناٹک میں خشک سالی سے نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے دس ہزار کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کی فراہمی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ شامل ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ رام مندر سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ مرکزی تفتیشی ادارے کے سپرد کی جائے۔ انہوں نے اس معاملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں بارش کی شدید قلت کے باعث کسانوں کو فصلوں کے نقصان، روزگار میں کمی اور نقل مکانی جیسے مسائل کا سامنا ہے، اس لیے مرکزی حکومت فوری طور پر کرناٹک کے لیے دس ہزار کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج جاری کرے۔

اجلاس میں منظور کی گئی دیگر قراردادوں کے تحت آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے کو دوبارہ راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف منتخب کیے جانے پر سونیا گاندھی کو مبارکباد پیش کی گئی۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی عوامی فلاحی اسکیموں اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد دی گئی، جبکہ نو منتخب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کو بھی مبارکباد پیش کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔

بی کے ہری پرساد نے کہا کہ قومی سطح پر منعقد ہونے والے طبی داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچے کے مبینہ افشا ہونے کے معاملے پر بھی اجلاس نے تشویش ظاہر کی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں صدر جمہوریہ کو بھی ایک یادداشت پیش کی جائے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاست میں فرقہ وارانہ طاقتوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے ضلعی اور تعلقہ سطح پر تربیتی کیمپ منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور جماعتی سطح پر بہتر رابطے کے لیے ایک سیاسی رابطہ کمیٹی اور ایک عملی نفاذ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

پارٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ جہاں کانگریس کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی، ایسے چوراسی اسمبلی حلقوں میں خصوصی اجلاس اور تنظیمی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی تاکہ تنظیم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اجلاس میں مقامی اداروں کے انتخابات جلد کرانے، پارٹی تنظیم میں مرحلہ وار تبدیلیاں لانے اور آئندہ تین سے چھ ماہ کے اندر دوبارہ کل رکنی نشست طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، تاکہ تنظیمی امور کا جائزہ لے کر ارکان کی تجاویز پر عمل درآمد کیا جا سکے۔


Share: