بنگلورو، 2 /جون (ایس او نیوز /ایجنسی)ریاست میں ذات پات پر مبنی سماجی، اقتصادی و تعلیمی سروے کے اعداد و شمار سے متعلق جاری بحث کے درمیان ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن نے واضح کیا ہے کہ سروے رپورٹ میں شامل تمام معلومات عدالتی ہدایات کے تحت خفیہ رکھی گئی ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ رپورٹ 27 مئی 2026 کو حکومت کے حوالے کر دی گئی تھی، لیکن اس کے مندرجات یا نتائج کو اب تک کسی بھی ذریعے سے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، لہٰذا میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اعداد و شمار کی صداقت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے 25 ستمبر 2025 کے حکم میں کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ سروے کے دوران جمع کیے گئے افراد کے ذاتی اور سماجی اعداد و شمار کی مکمل رازداری برقرار رکھی جائے۔ اسی عدالتی ہدایت کے تحت کمیشن نے تمام معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔
بیان کے مطابق کمیشن نے حکومت سے بھی درخواست کی تھی کہ عدالت کی ہدایات کے پیش نظر رپورٹ کو محفوظ مقام پر سخت نگرانی کے ساتھ رکھا جائے، جس پر حکومت نے عمل درآمد کر دیا ہے۔
کمیشن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں بعض افراد اور حلقے میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سروے کے اعداد و شمار کے بارے میں بے بنیاد اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں، جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔
پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ کمیشن نے نہ تو سروے کے نتائج اور نہ ہی حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ کے کسی حصے کو عوامی طور پر جاری کیا ہے۔ اس کے باوجود بعض افراد محض قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر اعداد و شمار سے متعلق دعوے کر رہے ہیں، جو ہائی کورٹ کی ہدایات کے منافی ہیں۔
کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ سروے یا رپورٹ سے متعلق جھوٹی، غیر مصدقہ یا غیر مجاز معلومات کو میڈیا یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنا عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ایسے افراد کے خلاف قانونی اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
کمیشن نے عوام، سماجی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری طور پر جاری کردہ معلومات کو ہی معتبر سمجھیں۔
یہ پریس ریلیز کرناٹک ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے چیئرمین کی ہدایت پر جاری کی گئی، جس پر کمیشن کے رکن سکریٹری نے دستخط کیے ہیں۔