بنگلورو، 15/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کی مختلف کسان اور کسان نواز تنظیموں کے مشترکہ محاذ "سمیکتا ہوراٹا-کرناٹک" نے بڈدی ٹاؤن شپ منصوبے کے سلسلے میں حکومت کی کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کی رضامندی کے بغیر کسی بھی قسم کا جبری زمینی سروے یا اراضی کے حصول کی کارروائی فوری طور پر روکی جائے اور وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں کسانوں کے ساتھ مذاکرات کر کے مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔
تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہائی زرخیز، آبپاشی سے سیراب اور کثیر سالہ فصلوں والی زرعی زمین پر کنکریٹ ٹاؤن شپ تعمیر کرنے کا منصوبہ کسانوں اور زرعی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے حکومت اسے مکمل طور پر واپس لے۔
بیان کے مطابق گزشتہ روز بڈدی کے مندلہلی گاؤں میں سرکاری افسران پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ مشترکہ زمینی سروے کے لیے پہنچے، جس پر کسانوں نے احتجاج کیا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے کسان مسلسل اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ وہ اپنی زمین فروخت کرنے کے لیے کسی بھی قیمت پر تیار نہیں ہیں۔
تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اجلاس میں بھی کسانوں نے حکومت کو صاف الفاظ میں بتایا تھا کہ ان کا واحد مطالبہ اراضی کے حصول کا منصوبہ منسوخ کرنا ہے، جس پر حکام نے وزیر اعلیٰ کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا یقین دلایا تھا۔ اس کے باوجود اچانک پولیس کی موجودگی میں سروے شروع کرنے کی کوشش اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔
بیان میں حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ اگر کسانوں کی مرضی کے خلاف جبری اراضی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ معاملہ صرف بڈدی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے کرناٹک میں کسانوں کی وسیع تحریک جنم لے سکتی ہے، جس کے سیاسی نتائج بھی سنگین ہوں گے۔
مشترکہ محاذ نے اعتراف کیا کہ احتجاج کے دوران بعض مقامات پر کسانوں اور سرکاری عملے کے درمیان دھکم پیل کے واقعات پیش آئے، تاہم اس کی بنیادی ذمہ داری حکومت کے طرزِ عمل پر عائد ہوتی ہے۔ ساتھ ہی کسانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے احتجاج کو مضبوط مگر مکمل طور پر پُرامن اور منظم رکھیں اور ہر حال میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
بیان پر کرناٹک ریاستی رائت سنگھا و ہسرو سینا کے صدر ایچ آر بسوراجپا، بڈگل پور ناگیندر، چکی ننجنڈ سوامی اور ٹی یشونت سمیت مختلف کسان تنظیموں کے ذمہ داران کے دستخط ہیں۔