بنگلورو، 3 جون (ایس او نیوز): کانگریس کے سینئر رہنما اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار نے بدھ کے روز کرناٹک کے 25ویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے عہدے اور رازداری کا حلف لے لیا، جس کے ساتھ ہی ریاست میں قیادت کی تبدیلی کا طویل عرصے سے جاری سیاسی باب اختتام کو پہنچ گیا۔
64 سالہ ڈی کے شیوکمار، جو ریاست کے بااثر ووکلیگا رہنما اور کنک پورا حلقہ کے آٹھ مرتبہ منتخب رکن اسمبلی ہیں، گزشتہ کئی برسوں سے کانگریس کے طاقتور ترین لیڈروں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے ریاستی سیاست میں طویل جدوجہد، تنظیمی صلاحیت اور پارٹی وفاداری کے بل پر بالآخر ریاست کے اعلیٰ ترین سیاسی منصب تک رسائی حاصل کر لی۔
تقریبِ حلف برداری بدھ کی شام تقریباً 4 بجے بنگلورو کے لوک بھون (گلاس ہاؤس) میں منعقد ہوئی، جہاں ریاستی گورنر تھاور چند گہلوت نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ حلف برداری کے دوران ڈی کے شیوکمار نے اپنے ہاتھ میں آئینِ ہند کی کتاب تھام رکھی تھی، جسے کانگریس کی جانب سے آئینی اقدار سے وابستگی کے علامتی اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ڈی کے شیوکمار نے گنگادھرا اججیا کے نام پر حلف لیا، جبکہ ان کے ساتھ سینئر کانگریسی رہنما جی پرمیشور نے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نام پر حلف اٹھایا۔
اس موقع پر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، کے سی وینوگوپال، رندیپ سنگھ سرجے والا، سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا، مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، سابق وزرائے اعلیٰ، صنعت کاروں اور متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
یہ تقریب کئی حوالوں سے منفرد رہی۔ ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیر اعلیٰ نے مختلف مذاہب کے نمائندہ مذہبی رہنماؤں، جن میں ہندو سوامی جی، عیسائی فادر اور مسلم علماء شامل تھے، کی موجودگی میں حلف لیا۔ شیوکمار روایتی ریشمی لباس میں تقریب میں شریک ہوئے۔
وزیر اعلیٰ کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ سمیت 12 ارکان اسمبلی نے بھی کابینی وزیر کے طور پر حلف لیا۔ ان میں کے ایچ منی اپّا، کے جے جارج، یو ٹی قادر، ایم بی پاٹل، رام لنگا ریڈی، ستیش جارکی ہولی، کرشنا بائرے گوڈا، پریانک کھرگے، ایشور کھنڈرے، یتیندر سدارامیا، بائرتی سریش اور شرن پرکاش پاٹل شامل ہیں۔
کانگریس قیادت نے اس موقع پر پارٹی اتحاد کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔ سدارامیا اور شیوکمار ایک ساتھ اسٹیج پر موجود رہے، جسے پارٹی کے اندر ہم آہنگی اور استحکام کا پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ کانگریس قانون ساز پارٹی (سی ایل پی) نے 30 مئی کو ڈی کے شیوکمار کو متفقہ طور پر اپنا لیڈر منتخب کیا تھا۔ اس سے قبل وزارتِ اعلیٰ کو لے کر سدارامیا اور شیوکمار کے حامی حلقوں میں کئی ماہ سے قیاس آرائیاں جاری تھیں، تاہم کانگریس اعلیٰ قیادت نے بالآخر شیوکمار کو ریاست کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد سدارامیا نے استعفیٰ دے دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈی کے شیوکمار کی تاج پوشی کانگریس کے لیے محض قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ 2028 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اپنی تنظیمی طاقت کو مزید مستحکم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کے سامنے بنگلورو کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ، دیہی ترقی، پانی کے مسائل کے حل اور ریاست میں کانگریس کی سیاسی برتری برقرار رکھنے جیسے اہم چیلنجز ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈی کے شیوکمار کے سامنے ریاست کی مالی صورتحال، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور کانگریس کی انتخابی ضمانتوں (Guarantees) کے تسلسل جیسے اہم چیلنجز موجود ہیں۔ ان کی حکومت کی کارکردگی آئندہ برسوں میں نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ قومی سطح پر کانگریس کی سیاسی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔