ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں ڈی کے شیوکمار دور کا آغاز؛ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے متفقہ لیڈر منتخب، 3 جون کو لیں گے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف

کرناٹک میں ڈی کے شیوکمار دور کا آغاز؛ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے متفقہ لیڈر منتخب، 3 جون کو لیں گے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف

Sat, 30 May 2026 19:52:04    S O News
کرناٹک میں ڈی کے شیوکمار دور کا آغاز؛ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے متفقہ لیڈر منتخب، 3 جون کو لیں گے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف

بنگلورو 30/مئی (ایس او نیوز): کرناٹک کی سیاست میں اہم تبدیلی کے تحت کانگریس لیجسلیچر پارٹی (سی ایل پی) نے ہفتہ کے روز ریاستی کانگریس صدر اور سابق نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو متفقہ طور پر اپنا قائد منتخب کرلیا، جس کے بعد ان کے ریاست کے اگلے وزیراعلیٰ بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اعلان کیا کہ ڈی کے شیوکمار 3 جون کو کرناٹک کے نئے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیں گے۔

بنگلورو کے ودھان سودھا میں منعقدہ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس میں سبکدوش ہونے والے وزیراعلیٰ سدارامیا نے ڈی کے شیوکمار کے نام کی تجویز پیش کی، جبکہ سینئر رہنما ڈاکٹر جی پرمیشورا نے اس کی تائید کی۔ اجلاس میں موجود تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے شیوکمار کو نیا لیڈر منتخب کرلیا۔ اجلاس میں اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹریز کے سی وینوگوپال اور رندیپ سنگھ سرجے والا بھی موجود تھے۔

انتخاب کے فوراً بعد ڈی کے شیوکمار نے گورنر تھاور چند گہلوت سے ملاقات کرکے حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نئی کابینہ کی تشکیل کے سلسلے میں بھی مشاورت کا عمل شروع ہوچکا ہے اور امکان ہے کہ ابتدائی مرحلے میں چند وزراء کو بھی نئی حکومت کے ساتھ حلف دلایا جائے گا۔

IMG-20260530-WA0088

حلف برداری کی تقریب 3 جون کو بنگلورو میں منعقد ہوگی۔ ریاستی کانگریس کے قائدین کے مطابق تقریب کے مقام کے حوالے سے ابتدائی ابہام کے بعد اب اس کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ صحافیوں کی جانب سے تاریخ کے بارے میں سوال کیے جانے پر ڈی کے شیوکمار نے مختصر جواب دیتے ہوئے "تھرڈ، تھرڈ" کہا، جس سے 3 جون کو تقریب منعقد ہونے کی تصدیق ہوگئی۔

واضح رہے کہ سدارامیا نے 28 مئی کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ پارٹی ہائی کمان کی ہدایت اور مشورے پر رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ استعفیٰ کے بعد گورنر نے ان کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے وزراء کونسل کو تحلیل کردیا تھا، تاہم نئی حکومت کے قیام تک وہ نگراں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تبدیلی 2023 کے اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس کے اندر طے پانے والے طاقت کے فارمولے کا حصہ سمجھی جارہی ہے، جس کے تحت سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار کے درمیان قیادت کی منتقلی پر اتفاق رائے موجود تھا۔ گزشتہ چند ماہ سے اس تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری تھیں، جنہیں بالآخر پارٹی قیادت نے عملی جامہ پہنادیا۔

کانگریس قیادت نے اس موقع پر پارٹی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سدارامیا کی رہنمائی اور ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں پارٹی 2028 کے اسمبلی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس متحد ہے اور نئی قیادت کے ساتھ ریاست میں حکومت کی کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

یہ تبدیلی کرناٹک میں تقریباً 17 برس بعد کسی برسراقتدار حکومت کے دوران ہونے والی پہلی بڑی قیادت کی تبدیلی مانی جارہی ہے، جسے ریاستی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


Share: