ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے پر سی جے پی برہم، بحالی کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے پر سی جے پی برہم، بحالی کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

Mon, 12 Oct 2026 17:26:23    S O News

نئی دہلی ، 12/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی )دہلی پولیس نے جنتر منتر کو احتجاج کے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کرتے ہوئے رام لیلا میدان، براری گراؤنڈ اور سی بی ڈی گراؤنڈ کو متبادل مقامات قرار دیا۔ سی جے پی نے پولیس سے احتجاج کی تاریخ اور وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ۲۴؍ گھنٹے کا الٹی میٹم دیا۔ پارٹی لیڈر ابھجیت دپکے نے کہا، ’’اب پورا ملک جنتر منتر بنے گا۔‘‘ اس دوران دھرو راٹھی نے اپنی حراست کے بعد پولیس کارروائی پر تنقید کی، دہلی کی صورت حال کو ’ایمرجنسی جیسے حالات‘ قرار دیا اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔ پولیس نے فیصلے کی وجہ وزارت داخلہ کی کمیٹی کی سفارشات کو بتایا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کے معاملے میں دہلی میں پیر کو اہم پیش رفت ہوئی۔ دہلی پولیس نے جنتر منتر کو احتجاج اور مظاہروں کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کرتے ہوئے تین متبادل مقامات مقرر کیے ہیں۔ دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے پولیس سے احتجاج کی تاریخ اور وقت طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ۲۴؍ گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ اس دوران یوٹیوبر دھرو راٹھی نے اپنی حراست اور پولیس کارروائی پر سوالات اٹھائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔

دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار کے جاری کردہ حکم کے مطابق جنتر منتر اب دارالحکومت میں احتجاج کے لیے مقررہ مقام نہیں رہے گا۔ اس کے بجائے رام لیلا میدان، براری گراؤنڈ اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ کو احتجاج اور مظاہروں کے لیے نئے مقامات کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کی تشکیل کردہ کمیٹی نے احتجاج کے لیے متبادل مقامات کا جائزہ لیا تھا اور اسی کی سفارشات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ نئے مقامات پر احتجاج کے انتظام اور طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معیاری ضابطے بعد میں جاری کیے جائیں گے۔ یہ حکم ۱۱؍ اکتوبر کو جاری کیا گیا اور ۱۲؍ اکتوبر کو اس کی تفصیلات سامنے آئیں۔ جنتر منتر طویل عرصے سے سیاسی اور عوامی احتجاج کا نمایاں مقام رہا ہے۔ ایسے میں اس کی حیثیت ختم کیے جانے کا فیصلہ سی جے پی کے اس مطالبے کے درمیان سامنے آیا ہے جس کے تحت پارٹی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے لیے احتجاج کرنا چاہتی ہے۔

سی جے پی کے لیڈر پیر کو پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچے اور جنتر منتر پر احتجاج کے لیے تاریخ اور وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کے ترجمان سورَو داس نے کہا کہ اس مرتبہ پولیس کو خود احتجاج کی تاریخ اور وقت طے کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے، تاکہ اجازت کے معاملے کو غیر معینہ مدت تک زیر التوا نہ رکھا جائے۔ داس نے کہا: ’’پُرامن احتجاج ایک حق ہے، ایک آئینی حق۔ لوگ پہلے ہی اس کا استعمال کر رہے ہیں اور آئندہ بھی پُرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس عام طور پر احتجاج کے لیے ۱۰؍ دن پہلے درخواست دینے کی بات کرتی ہے، لیکن اس مرتبہ پارٹی نے حکام سے کہا ہے کہ وہ خود تاریخ اور وقت بتا دیں۔ داس کے مطابق، ’’ہم معاملے کو غیر معینہ مدت تک زیر التوا نہیں رہنے دیں گے۔ ہم ۲۴؍ گھنٹے کا الٹی میٹم دے رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘ پارٹی لیڈر اشوتوش رنکا نے بھی کہا کہ اگر پولیس مقررہ مدت میں جواب نہیں دیتی تو پارٹی ۲۴؍ گھنٹے کے اندر اپنے اگلے قدم کا اعلان کرے گی۔ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کے حکم کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ پولیس احتجاج کی اجازت دینے کے مطالبے پر کیا ردعمل دیتی ہے اور آیا پارٹی نئے مقررہ مقامات میں سے کسی مقام پر مظاہرے کی اجازت طلب کرے گی۔

جنتر منتر کی حیثیت ختم کیے جانے پر سی جے پی کے بانی ابھجیت دپکے نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقام کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے اور دعویٰ کیا کہ وہاں پہلے ہی حالات کو جنگی میدان جیسا بنا دیا گیا تھا۔ دپکے نے اپنے پیغام میں کہا: ’’اب پورا ملک جنتر منتر بنے گا۔‘‘ ان کا یہ بیان پولیس کے فیصلے کے خلاف پارٹی کے احتجاجی موقف کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، یہ پارٹی لیڈر کا سیاسی ردعمل ہے، پولیس کے حکم کی سرکاری وضاحت نہیں۔

دوسری جانب یوٹیوبر دھرو راٹھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل اپنی حراست کے بعد اتوار کو پریس کانفرنس میں پولیس کارروائی پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے دہلی کی صورت حال کو ’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’یہ ایمرجنسی جیسے حالات ہیں، لیکن کم از کم اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کا اعلان تو کیا تھا۔‘‘ راٹھی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن، عدالتوں اور پولیس سمیت اہم اداروں پر ’دو افراد‘ کا قبضہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے پولیس کی کارروائی اور دارالحکومت میں سیکوریٹی پابندیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے گیانیش کمار سے اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ یہ راٹھی کے الزامات اور سیاسی تبصرے ہیں؛ انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔ راٹھی نے اپنی حراست کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں احتجاج میں شرکت سے پہلے گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے لے جایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس اہلکاروں نے خود کو شدید دباؤ میں بتایا تھا۔ راٹھی نے عدم تشدد پر اپنے یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’میں عدم تشدد اور گاندھی پر یقین رکھتا ہوں۔ یہ لوگ گوڈسے پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ یہ بیان بھی ان کی پریس کانفرنس کا حصہ تھا۔

سی جے پی کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ایس آئی آر کے معاملے پر احتجاج جاری رہے گا۔ پارٹی کی جانب سے ۲۴؍ گھنٹے کی مہلت ایسے وقت دی گئی ہے جب دہلی پولیس نے احتجاج کے لیے مقررہ مقام ہی تبدیل کردیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متبادل مقامات کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر منتخب کیے گئے ہیں، جب کہ سی جے پی کے لیڈر اس فیصلے پر اعتراض کر رہے ہیں۔


Share: