ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / طلبہ و نوجوانوں کو جوڑنے کی دوڑ، ’جین زی رائزنگ‘، ’کیا بولتی پبلک‘ اور ’چھاتروں کی گونج‘ مہمیں سرگرم

طلبہ و نوجوانوں کو جوڑنے کی دوڑ، ’جین زی رائزنگ‘، ’کیا بولتی پبلک‘ اور ’چھاتروں کی گونج‘ مہمیں سرگرم

Sat, 08 Aug 2026 11:09:42    S O News

نئی دہلی، 8/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(آئیسا) نے اعلان کیا ہے کہ وہ حالیہ جنتر منتر احتجاج کے پیغام کو ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے کیلئے ملک گیر مہم ’’جین زی رائزنگ ‘‘ شروع کررہی ہے۔ اس کی قیادت آئیسا کی صدر نیہا بورا کریں گی اور اس کا آغاز  جمعہ،سے ہو گیا ہے۔ یہ ایک ماہ طویل مہم ہے جس میں نیہا بورا تعلیم میں اصلاحات، روزگار اور طلبہ سے متعلق مسائل کو لے کر ملک کی مختلف ریاستوں کا دورہ کریں گی۔ نیہا بورا نے اس تعلق سے انسٹا گرام پر ویڈیو جاری کرکے اعلان کیا کہ یہ مہم حالیہ جنتر منتر احتجاج کے جذبے کو ملک کے دیگر حصوں تک پہنچانے اور طلبہ و نوجوانوں کی آواز کو مزید منظم کرنے کی کوشش ہے۔ یہ پرامن تحریک تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے  لئےمعیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرے گی۔ نیہا بورا کے اعلان کے مطابق  اس تحریک میں حالیہ بھوک ہڑتالوں میں شامل رہے متعدد طلبہ لیڈر اور کارکن بھی شریک ہوں گے، جن میں دانش علی، منیش، آمین امیتوج اور دیگر شامل ہیں۔ رانچی سے اس کی شروعات ہو گئی ہے۔ وہاں سے یہ مہم کولکاتا،جے پور، ناگپور، حیدر آباد وغیرہ ہوتے ہوئے ادیشہ کی راجدھانی بھونیشور میں اختتام پذیر ہو گی۔ ملک کے مشرقی حصہ سے شروع ہونے والی مہم مغربی ہند، جنوبی ہند اور پھر دوبارہ مشرقی ہندوستان پہنچے گی۔ نیہا بورا نے بتایا کہ مہم کے دوران مختلف شہروں میں طلبہ، نوجوانوں اور مقامی شہریوں سے ملاقاتیں کی جائیں گی اور ان کے مسائل کو تحریک کے ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس سے بے روزگار نوجوانوں کا ایک ڈیٹا بیس  تیار ہو جائے گا۔

آئیسا نے اپنے مطالبات میں ’’نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو ختم کرنے، قومی تعلیمی پالیسی کو واپس لینے، معیاری تعلیم کی فراہمی اور نوجوانوں کے  لئےروزگار کے مواقع پیدا کرنےکو نمایاں طور پر شامل کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ موجودہ تعلیمی اور روزگار کے بحران نے نوجوان نسل کے مستقبل پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔’’جین  زی رائزنگ‘‘ کے پہلے مرحلے کے پروگرام کے مطابق نیہا  بورا ۱۱؍ اگست کو کولکاتا، ۱۴؍ اگست کو جے پور، ۱۶؍ اور ۱۷؍ اگست کو حیدرآباد، ۱۸؍ اگست کو وجئے واڑہ، ۲۰؍ اگست کو چنئی، ۲۲؍ اگست کو کالی کٹ، ۲۳؍ اگست کو بنگلور، ۲۵؍ اگست کو ممبئی، ۲۶؍ اگست کو پونے، ۲۷؍اگست کو ناگپور اور ۲۹؍اگست کو بھونیشور میں پروگراموں کی قیادت کریں گی۔بہار، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب اور ہریانہ سمیت دیگر ریاستوں کے پروگراموں کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔آئیسا نے روزگار کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (سی ایم آئی ای) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا۔ تنظیم کے مطابق ملک میں ۱۵؍ سے ۲۹؍سال کی عمر کے تقریباً۳۷؍کروڑ افراد ہیں۔ اگر ان نوجوانوں کو مناسب روزگار ملے تو تقریباً۱۲ء۸؍کروڑ افراد کام کرنا چاہیں گے، لیکن فی الحال صرف ۸ء۴؍کروڑ افراد ہی ملازمت کر رہے ہیں۔تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس صورت حال کے نتیجے میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً ۳۵؍ فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ آئیسا نے شہری نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں اضافے کی جانب بھی توجہ دلائی۔ اس کے مطابق سات سال قبل ۲۰؍ سے ۲۴؍ سال کی عمر کے نوجوانوں میں شہری بے روزگاری کی شرح تقریباً ۴۵؍ فیصد تھی، جو اَب ۵۰؍ فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح ۲۵؍ سے ۲۹؍ سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح پہلے تقریباً ۱۵؍ فیصد تھی جو اَب ۲۰؍ فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ملک اس وقت ایسے بے روزگاری بحران سے گزر رہا ہے جسکی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔ تنظیم کے مطابق بڑی تعداد میں ملازمتوں کو مستقل روزگار کے بجائے کنٹریکٹ کی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ ۲۰۲۵ء کے لیبر کوڈز جیسی پالیسیوں کے ذریعے مزدوروں کے حقوق پر بھی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔’جین زی رائزنگ‘ مہم کے ذریعےآئیسا اب جنتر منتر کے احتجاج کو ایک محدود دارالحکومت مرکوز تحریک کے بجائے ملک گیر طلبہ و نوجوان رابطہ مہم میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ رانچی سے شروع ہونے والی یہ مہم مشرقی ہندوستان سے مغربی اور جنوبی ریاستوں تک پہنچے گی، جہاں تعلیم، امتحانات، روزگار اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مسائل پر طلبہ سے براہ راست گفتگو کی جائے گی۔

کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی )نےبھی نوجوانوں کو رجھانے اور ان کے مسائل کے حل کیلئے  ’’کیا بولتی پبلک‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان گزشتہ روز ہی کیا ہے جو یکم ستمبر سے شروع کی جائے گی۔ یہ بھی ملک گیر مہم ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج کے بعد مختلف ریاستوں میں نوجوانوں کی جانب سے شروع ہونے والی سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں نےسی جے پی کو  ملک کے نوجوانوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسی سلسلے میں اب پارٹی کی قیادت ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کرے گی اور نوجوانوں سے ملاقات کرکے ان کی خواہشات، مسائل، خدشات اور تجاویز کو سمجھے گی اور ان کے حل کے لئے قومی پلیٹ فارم تیار کرے گی۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ اس ملک گیر ’ ’’کیا بولتی پبلک‘‘ مہم  کے ذریعے حاصل ہونے والی آراء کی بنیاد پر ایک ’’یوتھ ریفارم چارٹر‘‘ تیار کیا جائے گا، جو شہریوں کی تجاویز اور نوجوانوں کی ضروریات پر مبنی ہوگا۔ پارٹی نے اس مجوزہ چارٹر کے  لئے چار بنیادی ستون مقرر کئے ہیں جن میں جامع تعلیمی اصلاحات، تعلیم کو روزگار سے جوڑنا، ادارہ جاتی جواب دہی اور یکجہتی و اتحاد شامل ہیں۔پارٹی کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق  جامع تعلیمی اصلاحات  کے تحت پرائمری تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک پورے نظام تعلیم میں تبدیلیوں پر توجہ دی جائے گی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے نوجوانوں کی عملی زندگی اور مستقبل کے مواقع سے بھی جوڑا جانا ضروری ہے۔

دوسرے اہم ستون کے طور پرتعلیم سے روزگار تک انضمام کو شامل کیا گیا ہے۔ اسکے تحت پیشہ ورانہ تربیت، ہنرمندی کی ترقی اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا جائے گا۔ پارٹی کے مطابق تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کے سامنے روزگار کا بحران ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس خلا کو پُر کئے بغیر تعلیمی اصلاحات کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔کاکروچ جنتا پارٹی نے ادارہ جاتی جوابدہی کو بھی اپنے  ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ اس میں میڈیا، الیکشن کمیشن اور عدلیہ سمیت مختلف آئینی اداروں کو شامل کیا گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ جمہوریت اس وقت مؤثر انداز میں کام نہیں کرسکتی جب اسکے ادارے اپنے اقدامات کیلئے جوابدہ نہ ہوں۔ اپنے ایجنڈے کے چوتھے ستون کے طور پر پارٹی نے یکجہتی اور اتحاد کو جگہ دی ہے۔ اسکے تحت طلبہ تنظیموں، سول سوسائٹی ، سماجی تحریکوں اور ان سیاسی تنظیموں کے ساتھ تعاون کا منصوبہ ہے جو نوجوانوں سے متعلق اصلاحات کی حمایت کرتی ہیں۔پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں انصاف، تعلیم، روزگار اور دیگر سماجی مسائل پر پہلے ہی متعدد تنظیمیں، تحریکیں اور شہری کام کر رہے ہیں، ان تمام قوتوں کو یکجاکرنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی نے کہاکہ کوئی تنظیم اکیلے پورے ملک کو تبدیل نہیں کرسکتی، اسلئے وسیع تر اتحاد اور مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔ ساتھ ہی پارٹی نے ملک گیر رکنیت سازی مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

یوتھ کانگریس کی جانب سے شروع کی گئی  ’’چھاتروں کی گونج‘‘‘ ملک گیر طلبہ و نوجوان رابطہ مہم ہے، جس کی قیادت لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کر رہے ہیں۔ اس مہم کا مقصد طلبہ، سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں موجود مسائل کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنا ہے۔آج اس مہم کے تحت تیسرا پروگرام الٰہ آباد میں ہونے والا ہے جبکہ اس کی شروعات  راجستھان کے کوچنگ کے لئے مشہور شہر کوٹا سے ہوئی تھی ۔ دوسرا پروگرام دہرہ دون میں ہوا۔ دونوں ہی پروگرام نہایت کامیاب رہے جس کی وجہ سے طلبہ میں بھی جوش و خروش ہے اور یوتھ کانگریس بھی پوری سرگرمی کے ساتھ اسے کامیاب بنانے میںمصروف ہے۔ مہم میں خاص طور پر  امتحانات میں بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے کے واقعات، بھرتی کے عمل میں تاخیر، تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت اور نوجوانوں میں بے روزگاری جیسے مسائل  اور ان کے حل کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ طلبہ کی محنت اور میرٹ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔’چھاتروں کی گونج‘ کے اہم مطالبات میں امتحانی نظام میں اصلاح، پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی، فیس میں غیر منصفانہ اضافے کی مخالفت، نشستوں میں من مانی کمی روکنا اور طلبہ کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے جمہوری انداز میں سننا شامل ہے۔ راہل گاندھی اس مہم کی قیادت بھلے ہی کررہے ہیں لیکن یہ مہم پوری طرح سے یوتھ کانگریس اور نوجوان کارکنوں کے بل پر چلائی جارہی ہے۔ اس سے جڑنے والےطلبہ بھی زیادہ تر جین زی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت کافی پریشان ہے۔ 


Share: