بنگلورو، 9 جون (ایس او نیوز): بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کرناٹک سے خالی ہونے والی واحد راجیہ سبھا نشست کے لیے اپنے ریاستی نائب صدر اور ماہر تعلیم پروفیسر ایم ناگراج کو امیدوار نامزد کرکے ریاست کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف سابق وزیر اعظم اور جنتا دل (سیکولر) کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا کے پارلیمانی مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کے درمیان جاری سیاسی اتحاد کے حوالے سے بھی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں سے سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) اپنے اتحادی جے ڈی (ایس) کے بانی رہنما اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا کو ایک اور مدت کے لیے راجیہ سبھا بھیج سکتا ہے۔ دیوے گوڈا اس وقت راجیہ سبھا کے رکن ہیں اور ان کی موجودہ مدت جلد اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ تاہم بی جے پی کی جانب سے ایم ناگراج کے نام کا اعلان ہوتے ہی ان تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کا یہ فیصلہ محض ایک امیدوار کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے وسیع سیاسی حکمت عملی کارفرما نظر آتی ہے۔ پارٹی نے ایک ایسے چہرے کو آگے بڑھایا ہے جو تعلیمی حلقوں میں نمایاں شناخت رکھتا ہے، طویل عرصے سے تنظیمی سطح پر سرگرم رہا ہے اور ریاست کے مختلف سماجی طبقات میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی مستقبل کی سیاسی صف بندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے سماجی اور سیاسی توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب کانگریس نے اس فیصلے کو سابق وزیر اعظم دیوے گوڈا کی توہین قرار دیتے ہوئے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کے سابق وزیر اعظم اور کرناٹک کی سیاست کے قد آور رہنما کو نظر انداز کرنا دراصل ان کی سیاسی خدمات کو فراموش کرنے کے مترادف ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی نے جے ڈی (ایس) کو محض ایک سیاسی اتحادی کے طور پر استعمال کیا اور اب اس کے بانی رہنما کو بھی اہمیت نہیں دی جا رہی۔
اس کے برعکس جے ڈی (ایس) اور مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی نے کانگریس کی تنقید کو سیاسی ڈرامہ قرار دیا ہے۔ جے ڈی (ایس) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دیوے گوڈا کا سیاسی قد کسی ایک پارلیمانی نشست سے کہیں بڑا ہے اور وہ ریاست و ملک کی سیاست میں بدستور ایک بااثر شخصیت ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کے درمیان اتحاد مضبوط ہے اور راجیہ سبھا امیدوار کے انتخاب کو اتحاد کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
تاہم سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث سوال یہی ہے کہ آیا اس فیصلے سے بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کے تعلقات میں کوئی دراڑ پیدا ہوسکتی ہے؟ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگرچہ فی الحال دونوں جماعتیں اتحاد کے استحکام کا دعویٰ کر رہی ہیں، لیکن دیوے گوڈا جیسے سینئر رہنما کو دوبارہ راجیہ سبھا نہ بھیجنے کا فیصلہ جے ڈی (ایس) کے کارکنوں اور حامیوں میں ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں جماعتیں ریاست میں کانگریس کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یہ فیصلہ دیوے گوڈا کے پارلیمانی مستقبل کے حوالے سے بھی کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔ 93 سالہ سابق وزیر اعظم گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاستی اور قومی سیاست کا اہم حصہ رہے ہیں۔ اگر انہیں کسی اور راستے سے پارلیمنٹ میں لانے کی کوشش نہیں کی جاتی تو ان کی موجودہ مدت کے اختتام کے بعد پہلی بار ایسا ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان کا حصہ نہیں ہوں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایم ناگراج کی نامزدگی ایک طرف بی جے پی کی نئی سیاسی ترجیحات کی عکاس ہے تو دوسری جانب یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں این ڈی اے کے اندر طاقت کے توازن اور جے ڈی (ایس) کے کردار کے حوالے سے مزید بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ فی الحال بی جے پی اور جے ڈی (ایس) اتحاد میں کسی اختلاف کی باضابطہ علامت سامنے نہیں آئی، لیکن یہ سوال ضرور برقرار ہے کہ کیا ایم ناگراج کی نامزدگی مستقبل میں دونوں جماعتوں کے تعلقات پر کوئی اثر ڈالے گی یا پھر یہ محض ایک سیاسی فیصلہ ثابت ہوگا۔