ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلورو: یوتھ کانگریس کی 'چھاترون کی گونج' مہم، تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ

بنگلورو: یوتھ کانگریس کی 'چھاترون کی گونج' مہم، تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ

Sat, 04 Jul 2026 11:51:00    S O News
بنگلورو: یوتھ کانگریس کی 'چھاترون کی گونج' مہم، تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ

بنگلورو ، 4/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی ) ملک کے تعلیمی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹک پردیش یوتھ کانگریس کمیٹی (کے پی وائی سی سی) نے جمعہ کے روز "چھاترون کی گونج (طلبہ کی آواز)" مہم کے دوسرے مرحلے کے تحت بنگلورو کے مہادیوپورہ علاقے کے کنّمنگلہ میں ایک بڑی مشعل بردار ریلی نکالی۔

ریاستی یوتھ کانگریس کے صدر ایچ۔ ایس۔ منجوناتھ کی قیادت میں منعقدہ اس ریلی میں ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے نقاب پہن کر احتجاج کیا اور ہاتھوں میں مشعلیں اور پلے کارڈ اٹھا کر شفاف تعلیمی نظام، امتحانات میں بدعنوانی اور پرچہ لیک جیسے واقعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایچ۔ ایس۔ منجوناتھ نے کہا کہ ناقص تعلیمی انتظامات اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی مبینہ ناکامیوں کے باعث طلبہ اپنی قیمتی جانیں گنوا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو طلبہ اس دنیا سے جا چکے ہیں انہیں واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن آئندہ کسی بھی طالب علم کو نظام کی خرابی کی وجہ سے جان نہ گنوانی پڑے، اس کے لیے شفاف اور مضبوط تعلیمی نظام قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیں، این ٹی اے کے نظام کی جامع تحقیقات کرائی جائیں اور امتحانات، نتائج اور ملازمتوں کے لیے سالانہ تعلیمی کیلنڈر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان مطالبات کی منظوری تک یوتھ کانگریس کی تحریک جاری رہے گی۔

ریلی میں رکن قانون ساز کونسل ڈی۔ ٹی۔ سرینواس، سابق رکن پارلیمنٹ راجیو گوڑا، بنگلورو مشرقی ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی۔ کے۔ موہن، سابق رکن اسمبلی ایچ۔ ناگیش سمیت کانگریس کے متعدد رہنما اور کارکن موجود تھے۔

رکنِ راجیہ سبھا منصور علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیٹ (NEET) کے سوالیہ پرچے کے افشا ہونے سے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو نقصان پہنچا، جبکہ ذہنی دباؤ اور مایوسی کے باعث بعض طلبہ نے اپنی جانیں بھی گنوائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں نہ وزیراعظم، نہ مرکزی وزیرِ تعلیم اور نہ ہی این ٹی اے نے اپنی ذمہ داری قبول کی، جبکہ اس مسئلے پر راہل گاندھی نے مضبوط موقف اختیار کیا ہے۔

سابق رکن اسمبلی پورنیما نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد فلاحی منصوبے متعارف کرائے تھے، جبکہ 2014 کے بعد ملک کا تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوالیہ پرچوں کے مسلسل افشا ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے اور نہ ہی اس پر کسی قسم کی اخلاقی ذمہ داری قبول کی جا رہی ہے۔


Share: