بنگلورو، 25 جون (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر برائے گریٹر بنگلورو ترقیات کرشنا بائرے گوڑا نے اعلان کیا ہے کہ شہر بھر میں فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک اور پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ بنانے کے مقصد سے یکم جولائی سے ’’محفوظ فٹ پاتھ مہم‘‘ شروع کی جائے گی۔ اس کے تحت فٹ پاتھوں پر قائم تمام غیر قانونی تجاوزات، پارکنگ اور کاروباری سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
آج گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے دائرۂ کار میں فٹ پاتھوں کی مرمت اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق جائزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فٹ پاتھ پر چلنے کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دیا ہے اور مقامی اداروں کو اس حق کے تحفظ کی ہدایت دی ہے۔ اسی تناظر میں ریاستی حکومت نے بھی سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں تقریباً 13 ہزار کلومیٹر سڑکوں کا جال موجود ہے، جن میں تقریباً 2 ہزار کلومیٹر آرٹیریل اور سب آرٹیریل سڑکیں شامل ہیں۔ ان اہم شاہراہوں پر پیدل چلنے والوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے گی۔
وزیر نے کہا کہ دکان داروں کو یکم جولائی تک فٹ پاتھوں پر رکھے گئے سامان، سائن بورڈز اور دیگر اشیاء از خود ہٹانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ اس مدت کے بعد اگر تجاوزات برقرار رہیں تو بلدیہ خود انہیں ہٹائے گی اور متعلقہ افراد پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
کرشنا بائرے گوڑا نے کہا کہ فٹ پاتھ شہر کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ شہریوں کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ لہٰذا تمام کاروباری افراد کو اپنی سرگرمیاں اپنی دکانوں یا مقررہ حدود کے اندر ہی انجام دینی چاہئیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
انہوں نے بتایا کہ بنگلورو میں ہر سال تقریباً ایک ہزار افراد سڑک حادثات میں جان گنواتے ہیں، جن میں قریب 30 فیصد پیدل چلنے والے ہوتے ہیں۔ اگر محفوظ اور معیاری فٹ پاتھ دستیاب ہوں تو ان حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فٹ پاتھ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے نہیں بلکہ عوامی آمدورفت کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لیے فٹ پاتھوں پر کھڑی گاڑیوں کو بغیر کسی رعایت کے ٹوئنگ کے ذریعے ہٹا دیا جائے گا۔
وزیر نے کہا کہ یکم جولائی سے شہر بھر میں سڑکوں کے کنارے طویل عرصے سے کھڑی لاوارث گاڑیوں پر نوٹس چسپاں کیے جائیں گے۔ مالکان کو سات دن کی مہلت دی جائے گی، جس کے بعد 10 جولائی سے ایسی گاڑیوں کو ٹوئنگ کے ذریعے ہٹا کر نیلامی کی کارروائی شروع کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ شہر کی پانچ بلدیاتی حدود میں تقریباً دو ہزار کلومیٹر فٹ پاتھوں کی مرمت اور بہتری کے لیے 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹوٹی ہوئی سلیبوں، کرب اسٹونز اور سطحی خامیوں کی فوری اصلاح کی جائے گی۔
کرشنا بائرے گوڑا نے اعلان کیا کہ یکم جولائی سے آرٹیریل اور سب آرٹیریل سڑکوں کے فٹ پاتھوں اور اہم شاہراہوں پر ٹھیلوں کے ذریعے کاروبار کی اجازت نہیں ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے ٹھیلے ضبط کیے جائیں گے اور جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے، البتہ حکومت کی جانب سے مجاز قرار دیے گئے مقامات پر کاروبار جاری رکھا جا سکے گا۔
وزیر نے حکام کو ہدایت دی کہ سڑکوں کے گڑھوں کو ’’باکس کٹنگ‘‘ کے سائنسی طریقۂ کار کے تحت بھر کر معیاری اسفالٹنگ کی جائے تاکہ بار بار گڑھے بننے کی شکایات کا خاتمہ ہو۔ اس مقصد کے لیے جدید مشینری کے استعمال کو بھی ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے اہم چوراہوں اور ٹریفک سگنلز کے اطراف خراب سڑکوں، گڑھوں اور دیگر بنیادی مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی سگنلوں کے قریب موجود غیر ضروری اسپیڈ بریکرز ہٹانے کی بھی ہدایت دی گئی۔
وزیر نے کہا کہ شہر کے تمام ٹریفک سگنلز سے 75 میٹر کے دائرے میں بسوں یا دیگر گاڑیوں کے کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلے میں ٹریفک پولیس حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد ضروری احکامات جاری کیے جائیں گے۔
اجلاس میں گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے چیف کمشنر مہیشور راؤ، مختلف بلدیاتی کمشنرز، ٹریفک پولیس کے جوائنٹ کمشنر کارتک ریڈی اور دیگر اعلیٰ افسران شریک تھے۔