بنگلورو، 21/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) بنگلورو کے کوگیلو علاقے میں انہدامی معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا ہے، جس پر قانونی اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
لیگل تنظیم “لیکس گروپ” سے وابستہ ایڈوکیٹ اوماپتی نے حکومت اور متعلقہ حکام پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی مداخلت اور انسانی حقوق کمیشن کی سفارشات کے باوجود بے گھر خاندانوں کی بازآبادکاری عمل میں نہیں لائی گئی، جو انتہائی افسوسناک اور تشویشناک صورتحال ہے۔
فریڈم پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ اوماپتی نے کہا کہ کرناٹک انسانی حقوق کمیشن اور چیف سکریٹری کی مداخلت کے باوجود متاثرہ خاندان آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہونے کے باوجود متعلقہ افسران نے اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی اختیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہدامی کارروائی کے دوران بعض پولیس افسران کے خلاف بھی شکایات درج کرائی گئی ہیں، کیونکہ کارروائی کے وقت غریب خاندانوں کے ساتھ مبینہ طور پر غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ ان کے مطابق کئی خاندان آج بھی فٹ پاتھوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں نہ مناسب رہائش ہے، نہ تحفظ اور نہ ہی بنیادی انسانی سہولیات۔
ایڈوکیٹ اوماپتی نے سوال اٹھایا کہ اگر عدالتیں، انسانی حقوق ادارے اور اعلیٰ حکام مداخلت کے باوجود غریب عوام کو انصاف اور رہائش فراہم نہیں کرسکتے، تو آخر کوگیلو کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف کون دلائے گا؟
سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بے گھر خاندانوں کی فوری بازآبادکاری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔