ناسک ، 8/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)ناسک پولیس نے ٹی سی ایس معاملے میں ملزمہ ندا خان کو روپوش ہونے میں مدد کرنے کے الزام میں مجلس اتحاد المسلمین کے کارپوریٹر متین پٹیل کو اورنگ آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔ متین پٹیل کو سمن بھیجے جانے کے باوجود پوچھ تاچھ کیلئے حاضر نہ ہونے کے بعد گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا۔ یاد رہے کہ ندا خان کو اس معاملے میں ضمانت مل چکی ہے اور وہ رہا ہو چکی ہیں۔ان کے علاوہ دیگر ۵؍ لوگوں کو بھی ضمانت مل چکی ہے۔
یاد رہے کہ مارچ ۲۰۲۶ء میں ناسک میں واقع ٹی سی ایس کمپنی میں ایک لڑکی نے الزام لگایا تھا کہ دانش شیخ ، نداخان اور رضا میمن اوردیگر نے اسے مذہب تبدیل پر مجبور کیا تھا نیز اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ اس معاملے میں نداخان جسے کلیدی ملزم قرار دیا جا رہا تا وہ روپوش تھی۔ نداخان اس وقت حاملہ تھی۔ پولیس اس کی تلاش میں تھی بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اورنگ آباد میں ایک مکان میں روپوش ہے۔ پولیس نے نداخان کو وہاں سے گرفتار کیا تو معلوم ہوا کہ مذکورہ مکان مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی کارپوریٹر متین پٹیل کا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں متین پٹیل اور مکان میں رہنے والے کرایے دار کو بھی ملزم بنایا تھا اور ان سے پوچھ تاچھ بھی کی تھی لیکن گرفتار نہیں کیا تھا۔
جمعرات کی رات ناسک پولیس کی ایس آئی ٹی (جو اس کیس کی تفتیش کیلئے تشکیل دی گئی تھی) نے اورنگ آباد جا کر متین پٹیل کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ’’ ہم نے انہیں کئی بار سمن بھیجا تھا تاکہ ان سے پوچھ تاچھ کی جا سکے لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔لہٰذا انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں عدالت میں پیش کرنے کے بعد تحویل مانگی جانے والی تھی مگر خبر لکھے جانے تک انہیں عدالتی کارروائی کے تعلق سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔